خیبرپختونخوا حکومت نے پاک افغان سرحد کی مسلسل بندش پر وفاقی حکومت کو خط ارسال کر دیا۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر تجارت جمال کمال کو خط لکھا۔
خط میں مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر تجارت کی مسلسل بندش سے سنگین ریونیو، معاشی اور روزگار پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مشیر خزانہ نے کہا کہ پاک افغان سرحد بندش سے انفرا اسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (آئی ڈی سی) کی وصولیوں میں تقریباً 80 فیصد کی تشویشناک کمی کی اطلاع ہوئی ہے، پاک افغان سرحدوں کی بندش سے سرحد پار تجارت بری طرح متاثر ہوئی اور تجارتی سرگرمیاں مؤثر طریقے سے ٹھپ ہوگئیں۔
مشیر خزانہ نے ٹیکس وصولوں کے حوالے سے کیپرا کا خط بھی منسلک کیا ہے۔
خط میں انہوں نے کہا کہ یہ حالات معاشی تناظر میں خاص طور پر پریشان کن ہیں۔ پاکستان پہلے ہی گرتی ہوئی برآمدات، اقتصادی ترقی اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے دوچار ہے۔
مشیر خزانہ نے مطالبہ کیا کہ ایسی صورتحال کے باعث اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا جائے۔ اجلاس میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں، جس میں خیبرپختونخوا کے لیے محصولات کے مضمرات اور برآمد کنندگان اور تاجروں کو درپیش چیلنجز پر غور کیا جائے۔