کراچی:
سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر احتجاج میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے ہمارا ساتھ نہیں دیا۔
میڈیا گیلری میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے نتیجے میں 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ اس شہر میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے، امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں گٹر میں گر کر اور ڈمپر کی ٹکر سے ہلاکتیں ہو جاتی ہیں، ٹرانسپورٹ کی سہولیات تک دستیاب نہیں ہیں۔
علی خورشیدی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ طرزِ حکمرانی پر تنقید کی ہے ۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد بھی ان کا پہلا مطالبہ غیر جانبدارانہ انکوائری کا تھا، مگر انکوائری ان ہی لوگوں سے کروائی گئی جو اس سانحہ کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کل سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اب جوڈیشل کمیشن بنانا ہوگا جب کہ یہی مطالبہ ایم کیو ایم پہلے دن سے کر رہی تھی اور اس پر انہیں سیاست کرنے کا طعنہ دیا جا رہا تھا۔ اب حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک افسوسناک صورتحال یہ رہی کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اراکین نے احتجاج میں ایم کیو ایم کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ نے عوام کا مقدمہ لڑا اور الحمدللہ کامیاب بھی ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی خورشیدی کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ گل پلازہ پر وفاقی حکومت کی خاموشی بھی تشویشناک ہے۔ سب کو اس حادثے پر جھنجھوڑنے کی کوشش کی مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ اس شہر کو وفاق کی جانب سے بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آگ بجھانے والے تمام ادارے میئر کراچی کے ماتحت نہیں ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ حکومتی تحقیقاتی رپورٹ میں کسی ذمہ دار کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ وہ خود بھی موقع پر موجود تھے ، فائر بریگیڈ کے پاس پانی نہیں تھا، جس کا ذکر حکومتی رپورٹ میں بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیر جیسے تیسے تحقیقاتی رپورٹ تیار ہو گئی ہے اور جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی مان لیا گیا ہے، اس لیے اب ایم کیو ایم ایوان میں احتجاج نہیں کرے گی۔