کراچی:
کراچی: شہرِ قائد کا مشہور زمانہ ’گل پلازہ‘، جو دہائیوں سے عید کی خریداری اور شادیوں کے سامان کا مرکز تھا، حالیہ ہولناک آگ کے بعد اب محض ایک سیاہ کھنڈر بن چکا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے رپورٹرز نے کولنگ کے عمل کے بعد عمارت کے اندر قدم رکھا اور اس سانحے کا دل دہلا دینے والا منظر بیان کیا۔
خوشی کا مرکز، اب موت کا سناٹا
رپورٹر عائشہ خان انصاری کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کراچی کا وہ ’گلدستہ‘ تھا جہاں ہر عمر اور طبقے کے لوگ آتے تھے۔ "اگر کسی کے گھر شادی ہو اور وہ گل پلازہ نہ جائے تو اس کی شادی ادھوری سمجھی جاتی تھی۔" شعبان کا مہینہ شروع ہوتے ہی دکانداروں نے عید کی تیاریوں کے لیے دکانیں مال سے بھر دی تھیں لیکن اب وہاں خوشیوں کے بجائے صرف کالک، دھواں اور ناقابلِ برداشت تپش باقی ہے۔
40 گھنٹے بعد کا ہولناک منظر
ساجد رؤف نے بتایا کہ آگ لگنے کے تقریباً 40 گھنٹے بعد جب انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت ملی، تو وہاں کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ سانس لینا محال تھا۔ "اندر صرف اندھیرا تھا اور جلے ہوئے سامان کی وہ مخصوص بو جو ہوش اڑا دے۔" انہوں نے بتایا کہ کئی دکانداروں نے اس امید میں شٹر گرا دیے تھے کہ آگ جلد بجھ جائے گی، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ شٹر ان کے لیے ہمیشہ کے لیے بند ہو رہے ہیں۔
آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟
رپورٹرز نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ محض 30 سے 45 منٹ کے اندر پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں کیسے آگئی؟ ساجد رؤف کے مطابق، "یہ ایک بڑا سوال ہے کہ آگ گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 7 تک اتنی جلدی کیسے پہنچی؟ کیا یہ بجلی کی تاروں کا شارٹ سرکٹ تھا یا عمارت میں موجود کیمیکل اور پلاسٹک کا سامان؟ اس کی گہرائی سے تحقیقات ہونی چاہئیں۔"
سیفٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی
رپورٹ کے مطابق کراچی کی 99 فیصد تجارتی عمارتوں میں ’فائر ایگزٹ‘ یا آگ بجھانے کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں۔ ساجد رؤف نے بتایا کہ دو سال قبل سروے کے باوجود کسی نے حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب دکانداروں سے ان انتظامات کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ تعاون کرنے کے بجائے لڑنے پر اتر آتے ہیں۔
کراچی والوں کی ایک ادھور ی عید
گل پلازہ کی فوڈ اسٹریٹ، وہاں کے چنا چاٹ اور کھٹے آلو اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ رپورٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ اس بار کراچی والوں کی عید ویسی نہیں ہوگی، 1200 سے زائد دکانوں کا جلنا صرف معاشی نقصان نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی خوشیوں کا قتل ہے۔
رپورٹرز کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ ’ڈنڈے‘ کے زور پر سیفٹی قوانین نافذ نہیں کرے گی، ایسے حادثات معصوم شہریوں کی زندگیاں نگلتے رہیں گے۔