کوہستان کرپشن اسکینڈل میں 8 بے نامی دار اثاثوں سے دستبردار ہوگئے جب کہ احتساب عدالت نے سرنڈر کرنے والوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
اثاثے سرنڈر کرنے والوں میں مرکزی ملزم قیصر اقبال کی دو بہنیں،ڈرائیور،بہنوئی سمیت قریبی رشتہ دار شامل ہیں، اثاثے سرنڈر کرنے والوں میں شعیب الرحمن،ثاقب زمان، اعجاز احمد، شبنم عاصم، زوبیا اعجاز، ہاشم خان، سید علی خان، اظہر اقبال شامل ہیں۔
فیصلے کے مطابق بے نامی دار نے چھ پلاٹس، تین گھر، چھ گاڑیاں عدالت کے سامنے سرنڈر کی،
بے نامی داروں کی بیان کے مطابق ملزم قصر اقبال نے انکے نام پر اثاثے بنائے، عدالت نے بیانات ریکارڈ کرنے کے وقت نیب افسران کو عدالت سے باہر کیا، بیان رکارڈ کرتے ہوئے تمام بے نامہ داروں نے بتایا کہ ان پر کوئی پریشر نہیں ہے، مرضی سے بیان دے رہے ہیں۔
فیصلے کے مطابق بے نامی داروں کو اثاثے سرنڈر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، بے نامی داروں کے تمام اثاثے حکومت خیبر پختونخوا کی مالکیت ہیں، نیب قانون کے مطابق ان تمام اثاثوں کو کے پی حکومت کو منتقلی یقینی بنائے۔
کوہستان سکینڈل میں گرفتار ملزم امیر زیب کی جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت میں پیش
عدالت نے ملزم کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا ، تفتیشی آفیسر نے کہا کہ ملزم کے اکاﺅنٹ میں کوہستان سکینڈل میں 35کروڑ 72لاکھ روپے سے زائد کی رقم منتقل کی گئی،پشاور :ملزم امیر زیب کو 16جنوری کو ایبٹ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی ، مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے نیب کے تفتیشی آفیسر کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کردی۔