ڈکی بھائی ’’جیل کے کھانے‘‘ کے گُن گانے لگے، مداحوں کو بھی مشورہ دے ڈالا

جیل میں فراہم کیا جانے والا کھانا نہ صرف صاف ستھرا بلکہ صحت کے اصولوں کے مطابق بھی ہوتا ہے، ڈکی بھائی


ویب ڈیسک January 31, 2026

پاکستان کے معروف یوٹیوبر سعد الرحمٰن المعروف ڈکی بھائی نے اپنے وزن میں نمایاں کمی کی وجہ بیان کرتے ہوئے ایک غیر متوقع بات کہہ دی۔

حالیہ سماعت کے موقع پر صحافیوں سے مختصر گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ جیل میں فراہم کیا جانے والا کھانا نہ صرف صاف ستھرا بلکہ صحت کے اصولوں کے مطابق بھی ہوتا ہے، جس کا مثبت اثر ان کی صحت پر پڑا۔

عدالتی کارروائی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جب ایک رپورٹر نے ان کے وزن کم ہونے سے متعلق سوال کیا تو ڈکی بھائی نے جواب دیا کہ جیل کا کھانا کافی صحت بخش ہوتا ہے، حتیٰ کہ مذاقاً یہ بھی کہا کہ وزن گھٹانے کے خواہش مند افراد کو چاہیے کہ یا تو جیل سے آٹا منگوا لیں یا خود جا کر لے آئیں۔

ڈکی کا کہنا تھا کہ عام طور پر لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ قیدیوں کو محض روٹی اور پانی دیا جاتا ہے، یا شاید روٹی بھی پوری نہیں ملتی، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ جیل کا کھانا حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار کیا جاتا ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ جیل کے کھانے کی تشہیر کر رہے ہیں، تو ڈکی بھائی نے کہا کہ جیل کے بارے میں تشہیر کرنے جیسا آخر ہے ہی کیا۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

اسی کیس سے متعلق عدالتی پیش رفت میں ایڈیشنل سیشنز جج منصور احمد قریشی نے عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 4 فروری تک توسیع کر دی۔ سماعت کے دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کیس کا ریکارڈ جمع کرانے کے لیے مزید مہلت طلب کی اور مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی افسر اپنے بھائی کی شادی کے باعث پیش نہیں ہو سکا۔

ڈکی بھائی خود بھی مبینہ طور پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کے معاملے میں زیرِ تفتیش ہیں۔ انہیں پہلی مرتبہ 17 اگست 2025ء کو لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں این سی سی آئی اے حکام نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر بغیر لائسنس جوئے کی ایپس کی تشہیر کی اور ممکنہ طور پر اس سے منسلک مالی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2025ء میں 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کی، جس کے بعد 26 نومبر کو انہیں رہا کر دیا گیا۔ استغاثہ کی جانب سے بعد میں کیس کا ریکارڈ اور چالان عدالت میں جمع کرا دیا گیا، جبکہ ضبط شدہ آلات کی واپسی سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

مقبول خبریں