مشرق وسطیٰ میں نئی جنگ!

صدر ٹرمپ کی سوچ یقینا قابل تحسین اور مثبت قرار دی جا سکتی ہے اور اس کی پذیرائی بھی کی جانی چاہیے


ایم جے گوہر February 02, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے طمطراق سے اپنے مختلف انٹرویوز اور بیانات اور تقاریر میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے آٹھ جنگیں رکوائیں جن میں پاک بھارت ممکنہ ایٹمی جنگ بھی شامل ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے دوسرے دور حکومت میں دنیا کو جنگوں سے نجات دلا کر امن کا گہوارا بنانا چاہتے اور عالمی سطح پر ملکوں کے درمیان تنازعات و کشیدگی کو ختم کرانا چاہتے ہیں تاکہ جنگوں کی تباہی سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کو محفوظ اور ان کے مستقبل کو روشن بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں، صدر ٹرمپ کی سوچ یقینا قابل تحسین اور مثبت قرار دی جا سکتی ہے اور اس کی پذیرائی بھی کی جانی چاہیے لیکن جب ہم عملی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات و فیصلوں کو دیکھتے ہیں تو وہ ان کی سوچ کے برعکس نظر آتے ہیں اس کی تازہ مثال ایران کے خلاف جارحیت کے ارتکاب کے حوالے سے ان کا تازہ بیان ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ایران جلد ایٹمی معاہدہ کرے ورنہ حملہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں لکھا ہے بلکہ ایران کو خبردار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے بصورت دیگر امریکا کا اگلا حملہ پہلے سے زیادہ خطرناک، خوفناک اور شدید ہوگا۔ یہاں واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ سال جون میں اپریشن مڈنائٹ ہیمر کے نام سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا جس میں 100 سے زائد طیارے شامل تھے اور خاص طور سے بی۔2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے امریکا سے براہ راست پرواز کرکے ایران کی جوہری تنصیبات پر بینکر بسٹر بم گرائے تھے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی زیر زمین ایٹمی تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ جب کہ ایران کا موقف تھا کہ اس نے امریکی حملے سے قبل ہی اپنے جوہری اثاثے منتقل کر دیے تھے۔

صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں اور ممکنہ حملے کے حوالے سے ایران نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہو سکتے، امریکا سے بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب دباؤ اور غیر معمولی مطالبات ختم ہوں۔ ایرانی حکومت کی خاتون ترجمان فاطمہ مہاجرانی کا کہنا ہے کہ سفارت کاری ترجیح ہے مگر جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

ترکیہ، قطر، سعودی عرب، چین، روس اور پاکستان سمیت تمام اہم عرب اور یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی جانب سے امریکا پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے سے گریز کرے اور سفارت کاری کے ذریعے ایران کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے تاکہ مشرق وسطیٰ کا امن تباہ نہ ہو۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ایران تنازع کے حل کے لیے پائیدار مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے خطے کی نازک صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایران امریکا تنازع کے حل کے لیے سفارتی تبادلہ خیال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل بھی پاکستان اور عرب ملکوں کی سفارتی کوششوں سے ایران پر امریکی حملے کا خطرہ ٹل گیا تھا اور صدر ٹرمپ نے حملے سے گریز کرتے ہوئے ایران کو موقع فراہم کیا تھا ایران آج بھی امریکا سے بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

لیکن صدر ٹرمپ اپنی افتاد طبع کے باعث دو طرفہ مذاکرات کے ماحول کو سازگار بنانے کی بجائے کشیدگی کو ہوا دے کر ایران پر پہلے سے زیادہ شدت سے حملے کی دھمکیاں دے کر گفتگو کے ماحول کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایران پر حملے کے لیے اپنا ذہن بنا رکھا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے وہ قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اپنا دوسرا بحری بیڑا بھی ایران کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ جواب میں ایران نے بھی بحری مشقیں شروع کر دی ہیں جس کے باعث کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور جنگ کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

عالمی دفاعی تجزیہ نگار اور مبصرین صورت حال کی نزاکت اور امکانی ایران امریکا جنگ کے تناظر میں امریکا کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی میں اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار مائیکل ڈوران نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں امریکا کو غیر متوقع ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا، ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت خطے میں وسیع اثر و رسوخ رکھتی ہے، حملے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو بھی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے گویا امریکی حملے کی صورت میں جنگ کا دائرہ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل سکتا ہے جو خطے کو ایک نئی جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔

مقبول خبریں