شفیق آباد کے علاقہ میں دوران ڈکیتی 32 سالہ نوجوان خاتون کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، خالہ زاد بھائی ہی قاتل نکلا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے قتل کی اس بڑی واردات کا نوٹس لیا تھا، ایس پی انویسٹی گیشن سٹی فرحت عباس کی سربراہی میں ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شفیق آباد شاہزیب کمبوہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے چند روز قبل 32 سالہ نمرہ کو چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا، ملزم دوران ڈکیتی گھر سے 10 لاکھ روپے نقدی بھی لے گیا تھا۔
مقتولہ کا خاوند اپنی والدہ کو چیک کروانے نجی اسپتال گیا تھا، مقتولہ نمرہ اپنے 2 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی۔ دوران ڈکیتی مزاحمت پر مقتولہ نے ملزم کو پہچان لیا تھا، اسی بنا پر ملزم نے نمرہ کو چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔
ملزم کو پیشہ وارانہ مہارت اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزم سے دوران ڈکیتی لوٹی گئی لاکھوں روپے نقدی برآمد کر لی گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق خواتین و بچوں پر تشدد اور سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہے، پولیس پراسیکیوشن پارٹنر شپ کی مدد سے گرفتار ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی جانب سے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا گیا۔