ایران میں ایک نیا احتجاجی سلسلہ شروع ہوگیا ہے، خاص طور پر جامعات (یونیورسٹیوں) میں طلبہ نے حکومت کے خلاف مظاہرے شروع کیے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرے دوسرے اور تیسرے روز بھی جاری ہیں، جہاں یونیورسٹیوں جیسے تہران یونیورسٹی، امیر کبیر، شریف یونیورسٹی وغیرہ میں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین نے انقلاب ایران سے پہلے والا پرانا پرچم (شیر و سورج) بھی لہرایا جو حکومت مخالف علامت کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
مظاہرے زیادہ تر جامعات اور طلبہ کی جانب سے شروع ہوئے ہیں، جس میں کچھ جگہوں پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
طلبہ نے ’ہم اس حکومت کو نہیں چاہتے‘ جیسے نعرے لگائے ہیں اور احتجاج کو ایک سیاسی تحریک کی شکل دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یہ نئی احتجاجی لہر، پچھلے مہینے کے بڑے احتجاجوں اور حکومت کے شدید کریک ڈاؤن کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوئے تھے۔