ایران نے پاک افغان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ اس کے سفیر نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔
رضا امیری مقدم نے اسلام آباد انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناو کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رہنی چاہیئے، پاک بھارت جنگ اور ایران کے خلاف 12 روزہ اسرائیلی جارحیت نے پاک ایران تعلقات کو مزید قریب لائے، پاکستانی قوم اور حکومت کی زبردست حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں، علاقائی تعاون جاری رہے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ گزشتہ سال کے دوران 25 اعلیٰ سطحی ایرانی وفود نے پاکستان کا دورہ کیا، پاک ایران حالیہ تجارتی تعلقات اچھی سطح پر ہیں، پاکستان نے جنیوا میں ایران مخالف قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جس پر ہم شکرگزار ہیں، امریکا کو جنیوا میں سیاسی شکست کا سامنا ہوا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ دہشتگردی اور علیحدگی پسندی ہمارے مشترکہ چیلنجز ہیں، پاکستان اور ایران کے مشترکہ دشمن دہشتگردی اور علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہے ہیں، ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا، ہمارے مفادات اور خطرات مشترک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کسی بھی علیحدگی پسندی کو مسترد کرتے ہیں، علاقائی اور عالمی فورمز پر پاک ایران کے درمیان زبردست تعاون اور ہم آہنگی جاری ہے، ایران اور پاکستان فلسطین کے مضبوط حامی اور صہیونی جارحیت کے خلاف ہیں۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ 2015 سے ابتک متعدد بار آئی اے ای اے ایرانی نیو کلیئر پروگرام کو پرامن قرار دے چکی، اسرائیل خطے میں امریکہ کا نمائندہ ہے، لبنان میں اسرائیلی قبضے کے خلاف اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے بنائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسرائیل فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم کر چکا، حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں اسرائیل پسپائی اور مذاکرات پر مجبور ہوا۔