اسلام آباد:
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت کے حوالےسے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عمران خان کو ایک بڑے سرکاری اسپتال منتقل کرتی رہی جہاں ماہر ڈاکٹر کی سہولت موجود نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم بار بار یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کا مکمل اور تسلی بخش علاج ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں کرایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت انہیں اہل خانہ اور ان کے ذاتی معالجین سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں دے رہی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ عمران خان کا علاج ایک نجی اور معروف اسپتال میں کرایا جائے جہاں طبی سہولیات اور شفافیت کے حوالے سے ہمیں مکمل اطمینان ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں خفیہ طور پر وفاقی دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری اسپتال منتقل کرتی رہی ہے، حالانکہ وہاں آنکھوں کے پردہ بصارت کے ماہر معالج کی سہولت موجود نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو دوسری مرتبہ خفیہ طور پر اسپتال منتقل کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملہ سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکا ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی قسم کی سیاست نہیں کی جا رہی بلکہ یہ ایک انسانی اور قانونی حق کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کوئی عام شخصیت نہیں بلکہ ملک کے سابق وزیراعظم اور سب سے بڑے سیاسی قائد ہیں، اس لیے ان کی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کی صحت کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی تو اس کا دباؤ براہ راست حکومت پر ہوگا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے قوم میں شدید تشویش اور غصہ پایا جاتا ہے اور حکومت کو اس حساس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھا جائے کیونکہ اس جماعت کے کارکنان بھی اسی ملک کے شہری ہیں اور انہی کے ٹیکس سے ریاستی اداروں کو تنخواہیں ملتی ہیں۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ اداروں کے احترام کا درس دیا ہے، لہٰذا اداروں کو بھی اس احساس اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔