اسلام آباد:
وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ میں رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انہوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات نہیں ہوتی تھی اس لیے اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی۔
سہیل آفریدی نے کہا ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سوا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا، شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست جمع کرائی لیکن درخواست ہی نہیں لگی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے تھے تاہم انہیں چیف جسٹس کے سیکرٹری سے ملاقات کے لیے سیکرٹری کے آفس میں آنے کا پیغام دیا گیا۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں لگ رہے اوپن کورٹ میں ہی بات کروں گا۔
اس کے بعد، وزیراعلیٰ نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت کے روسٹرم پر جا کر بات کرنے کی کوشش تاہم چیف جسٹس بات سُنے بغیر چیمبر میں چلے گئے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان، نورین خان اور علیمہ خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی تھیں۔