کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور سندھ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بس سروس متعارف کرانے پر اتفاق 

مراد علی شاہ، ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان اہم اجلاس ہوا


ویب ڈیسک February 25, 2026

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) کے کنٹری ڈائریکٹر ایما فین کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس میں اہم اجلاس ہوا، جس میں کراچی سرکلر ریلوے (KCR) کی بحالی اور سندھ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بس سروس متعارف کرانے پر اصولی اتفاق کیا گیا۔

 

انہوں نے زور دیا کہ مختلف بی آر ٹی لائنز کے لیے فیڈر سروس کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے، جبکہ ADB کی تکنیکی و مالی معاونت سے کراچی کے ماس ٹرانزٹ نظام میں بنیادی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق KCR کی بحالی سے ٹریفک دباؤ اور کاربن اخراج میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

کنٹری ڈائریکٹر ایما فین نے اصولی طور پر KCR منصوبے کی مالی معاونت پر اتفاق کرتے ہوئے سندھ حکومت کو ہدایت کی کہ ضروری دستاویزات بینک بورڈ کی منظوری کے لیے جمع کرائی جائیں۔ اجلاس میں کراچی بی آر ٹی ریڈ لائن سمیت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور 2026–2029 کے لیے تقریباً 3 ارب ڈالر کے ترقیاتی پروگرام پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جو ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، صحت، تعلیم، پانی، دیہی ترقی اور ماحولیاتی لچک پر مشتمل ہوگا۔

چار شہروں میں پائیدار موبلٹی کے تحت الیکٹرک بس سروس کے اجراء پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صاف و گرین ٹرانسپورٹ سے شہری موبلٹی بہتر ہوگی، ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کم ہوں گے اور ایندھن پر انحصار میں کمی آئے گی۔ صوبائی حکومت الیکٹرک بس منصوبہ ADB کے سامنے پیش کرے گی جبکہ پروجیکٹ ریڈینس اور کو فنانسنگ پر بھی بات چیت ہوئی۔

اجلاس میں 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات، بروقت تکمیل، شفافیت اور معیار کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے منصوبوں کی تیاری، منظوری اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے پر اتفاق کیا تاکہ ترجیحی منصوبے 2026–2028 کے پروگرام میں شامل ہو سکیں۔

ترجمان کے مطابق اجلاس میں چیف سیکریٹری، چیئرمین P&D نجم شاہ اور وزیراعلیٰ کے سیکریٹری آصف جمیل شریک تھے، جبکہ بینک وفد میں نسانکا سالگادو، خیام عباسی اور سلمان میان سمیت دیگر حکام شامل تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ ADB کے ساتھ شراکت مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے اور حکومت تیز تر عمل درآمد، مضبوط گورننس اور عوام کے لیے واضح نتائج چاہتی ہے۔

مقبول خبریں