رحیم یار خان:
پنجاب کے کچے کے علاقے میں جاری بڑے آپریشن کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں خطرناک ڈاکو تنویر اندھڑ نے اپنے ساتھی ظفری جھبیل کے ہمراہ قانون کے سامنے سرنڈر کر دیا۔
ڈی پی او عرفان سمو کے مطابق تنویر اندھڑ کچے کا موسٹ وانٹڈ اور اندھڑ گینگ کا سرغنہ تھا، جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔
پولیس نے سرنڈر کے بعد ڈاکوؤں سے بھاری ہتھیار بھی برآمد کر لیے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تنویر اندھڑ سکھر ملتان موٹر وے حملہ کیس سمیت 5 پولیس اہلکاروں کی شہادت اور 13 شہریوں کے قتل کا مرکزی ملزم تھا، جبکہ اس کے خلاف قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، اغواء برائے تاوان اور دہشت گردی سمیت سنگین نوعیت کے 45 مقدمات درج تھے۔
ڈی پی او کے مطابق سرنڈر کرنے والے دوسرے ملزم ظفری جھبیل کے خلاف بھی سنگین نوعیت کے 38 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔
پولیس کے مطابق کچہ آپریشن کے دوران اب تک 229 ڈاکو سرنڈر کر چکے ہیں، سرنڈر کرنے والوں میں 17 انتہائی مطلوب ڈاکو شامل ہیں جن کے سروں کی مجموعی قیمت 12 کروڑ روپے سے زائد تھی۔
آپریشن میں 69 ڈاکو ہلاک اور 97 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے، جبکہ مقابلوں میں 52 پولیس اہلکار شہید بھی ہوئے۔
ڈی پی او عرفان سمو نے بتایا کہ سرنڈر کرنے والے ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔