الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو امریکا سے نکال دینا چاہئے، ٹرمپ مسلم کانگریس ارکان کیخلاف پھٹ پڑے

الہان عمر نے صدر کو یاد دلایا کہ ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث ان کے دو حلقہ انتخاب کے افراد ہلاک ہوئے


ویب ڈیسک February 26, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران احتجاج کرنے والی دو ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس الہان عمر اور رشیدی طلیب کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ’جہاں سے آئی ہیں وہاں واپس بھیج دینا چاہیے‘۔

اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ جب اپنی حکومت کی امیگریشن پالیسی اور کریک ڈاؤن کا دفاع کر رہے تھے تو اس دوران عمر اور طلیب نے احتجاج کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’آپ نے امریکیوں کو قتل کیا ہے‘۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر دونوں ارکان کو ’بدعنوان اور کرپٹ سیاست دان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا رویہ غیر مناسب تھا اور وہ امریکا کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

الہان عمر، جو ریاست منی سوٹا سے رکنِ کانگریس ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صدر کو یاد دلایا کہ ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث ان کے دو حلقہ انتخاب کے افراد ہلاک ہوئے۔

واضح رہے کہ رواں برس منی سوٹا میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف احتجاج کے دوران دو امریکی شہری وفاقی اہلکاروں کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

رشیدہ طلیب، جو امریکی کانگریس میں فلسطینی نژاد پہلی خاتون رکن ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ دو مسلم خواتین کی بات برداشت نہیں کر سکے۔

خطاب کے دوران چند دیگر ڈیموکریٹ ارکان نے بھی احتجاج کیا، جبکہ ایک رکن کو ایوان سے باہر بھیج دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی سیاست میں ایک بار پھر امیگریشن اور نسلی بیانات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

مقبول خبریں