لاپتا افراد کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا گیا

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی


ویب ڈیسک February 26, 2026

اسلام آباد:

وفاقی آئینی عدالت نے لاپتا افراد کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا۔

وفاقی آئینی عدالت میں لاپتا افراد کیس میں حکام کے خلاف کارروائی کے فیصلے پر اپیل کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کے خلاف کارروائی پر بھی حکم امتناع جاری کیا گیا۔ آئینی عدالت نے سیکرٹری دفاع اور دیگر افسران کی اپیلیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔

جسٹس باقر نجفی نے اسفسار کیا کہ افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا؟ کیا تعین ہوگیا تھا کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دُگل نے بتایا کہ عدالت کے پاس ایسا کوئی مواد نہیں تھا جس سے یہ تعین ہوتا، عدالت میں لاپتا شخص کے اہلخانہ نے سرکاری تحویل میں ہونے کا بیان حلفی دیا تھا، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے بھی دیے تھے کہ لاپتا شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ عدالت نے حبس بیجا کے کیس میں افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا، محکمانہ کارروائی نہ ہونے پر توہین عدالت کی کارروائی بھی جاری ہے، حبس بیجا کے کیس میں ہائیکورٹ اس نوعیت کا حکم نہیں دے سکتی، افسران کی انٹراکورٹ اپیل ہائی کورٹ نے ناقابل سماعت قرار دیکر خارج کی۔

آئینی عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر نتیجہ مدت تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری ساجد الرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

مقبول خبریں