اسرائیلی جارحیت و بربریت کا نشانہ بننے والے غزہ میں امن کے قیام اور بحالی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سربراہی میں جو امن بورڈ قائم کیا ہے،گزشتہ ہفتے اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ بورڈ کے بانی اراکین میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، قطر و دیگر 26 ممالک شامل ہیں۔ امن بورڈ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ انھوں نے غزہ کی صورت حال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے حماس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے حماس جلد ہتھیار پھینک دے گی۔
انھوں نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے دس ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا اور یہ بھی بتایا کہ امن بورڈ کے اراکین کی جانب سے 7 ارب ڈالر کا پیکیج دیا جا چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یقین دہانی کرائی کہ امدادی پیکیج کا ہر ڈالر غزہ کی ترقی و خوشحالی اور امن کے قیام کے لیے استعمال ہوگا، غزہ اب دہشت گردی اور انتہا پسندی کا گڑھ نہیں رہے گا۔ صدر ٹرمپ کے بقول بورڈ کے رکن ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس فورس بھیجیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ امن بورڈ اقوام متحدہ کے معاملات پر بھی نظر رکھے گا تاکہ یو این درست طریقے سے کام کرے۔ گویا صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے ضامن ادارے اقوام متحدہ کے کردار کو بھی نہ صرف مشکوک بنا دیا بلکہ اس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی واضح کر دیا کہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والا امن بورڈ اقوام متحدہ سے بھی ایک درجہ اوپرکا ادارہ ہے، دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں مبصرین و تجزیہ نگار اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین امن بورڈ کے قیام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، صدر ٹرمپ کے خفیہ عزائم اور بورڈ کے اغراض و مقاصد پر بحث کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ میں ویٹو کی پاور رکھنے والے بڑے ممالک چین، روس، فرانس اور برطانیہ سمیت مغرب و یورپ کے بیشتر ممالک صدر ٹرمپ کے امن بورڈ میں شامل نہیں ہیں جس سے اس کی کمزور حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کو بھی دھمکی دی ہے کہ وہ دس دن میں امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرے، ورنہ جنگ کے لیے تیار ہو جائے۔ ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے امریکا ایران میں مخصوص شخصیات کو نشانہ بنا سکتا ہے اور رجیم چینج بھی کروا سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ دھمکیوں کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات اور جوہری معاہدہ کے لیے تیار ہیں۔
ایک طرف تو صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دنیا میں قیام امن کے علمبردار ہیں، انھوں نے دنیا میں 8 جنگیں رکوائیں، دوسری طرف وہ ایران کے خلاف جنگ کا اعلانیہ اظہار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کو تباہ کرنے کے در پے ہیں جو ان کی دو عملی پالیسی کا مظہر ہے اور اس امر کا عکاس بھی کہ ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے۔ بجا کہ انھوں نے جنگیں رکوائیں جن کا وہ بار بار اظہار کرتے ہیں۔ غزہ بورڈ اجلاس کے خطاب کے دوران بھی انھوں نے برملا اپنے موقف کو دہراتے ہوئے پاک بھارت جنگ رکوانے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیرکی بھی کھل کر تعریف کی۔ انھوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو بہت پسند کرتا ہوں کہ وہ میری جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ مبصرین و تجزیہ نگار اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ بار بار جو تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں، گویا وہ اپنا اخلاقی دباؤ بڑھا کر پاکستان کو اس بات پر آمادہ کرنے کے خواہاں ہیں کہ وہ غزہ کے لیے عالمی استحکام فورس میں اپنی فوج بھیجنے پر آمادہ ہو جائے دوسرے یہ کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے جو بھی عزائم اور پلان ہیں، اس پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا نہ کرے بلکہ ان کا عملی حصہ بن جائے۔ بالخصوص حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے، فلسطینیوں کی دوسرے ممالک میں منتقلی اور غزہ کو عالمی تفریحی پارک بنانے اور ایران میں رجیم چینج منصوبے کی حمایت پر آمادہ ہو جائے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے امن بورڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ موقف کو صاف الفاظ میں دہرایا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے۔
آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے لیے ناگزیر اور فلسطینیوں کا حق ہے۔ انھوں نے بجا طور پر یہ مطالبہ کیا کہ دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں بند ہونی چاہئیں۔ وزیراعظم نے تنازعات کے حل اور بروقت مداخلت کرکے پاک بھارت جنگ رکوانے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو قابل تحسین قرار دیا۔ غزہ امن بورڈ سے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ سردست تو اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا یہ بیان مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے، خطے پر قبضہ ان کا حق ہے۔