لاہور:
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پاک افغان کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسلامی ممالک سے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویش ناک ہے۔ دو ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان ایسی صورتحال دونوں اطراف کے عوام کے لیے تکلیف دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے۔ ان کے مطابق پاک افغان کشیدگی ایک ایسے وقت شدت اختیار کر رہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے، جو عالم اسلام کے لیے خطرناک ہوسکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ افغان قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہو سکتا اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا ایران کے خلاف کارروائی کے لیے جواز تلاش کر رہا ہے اور غزہ میں ہونے والے واقعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے افغان قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسا کوئی راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے الگ تھلگ ہو جائیں اور مخالف قوتوں کو فائدہ پہنچے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علما آگے آئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کریں۔ ا
نہوں نے چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب سے بھی اپیل کی کہ وہ ماضی کی طرح دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں اور اس موقع پر دوبارہ فعال کردار ادا کریں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاک سعودی عرب دفاعی تعاون بعض قوتوں کے لیے ناقابل قبول ہے اور عالم اسلام کے اتحاد کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنا مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہے۔