چینی محققین کی ایک ٹیم نے مصنوعی ذہانت پر مبنی SpecCLIP نامی ماڈل تیار کیا ہے، جو مختلف دوربینوں سے حاصل ہونے والے ستاروں کے اسپیکٹرل ڈیٹا کی تشریح کر سکتا ہے۔
بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس پیشرفت نے فلکیاتی ڈیٹا کے وسیع ذخائر کو پروسیس اور یکجا کرنے میں اے آئی کی غیر معمولی صلاحیت کو نمایاں کر دیا ہے۔
ستاروں کے اسپیکٹرا میں ان سے متعلق منفرد معلومات پوشیدہ ہوتی ہیں، جن میں درجہ حرارت، کیمیائی ساخت اور سطحی کششِ ثقل شامل ہیں۔ ان اسپیکٹرا کے تجزیے کے ذریعے ماہرینِ فلکیات کہکشاں ملکی وے کی ابتدا سے لے کر آج تک کی ارتقائی تاریخ کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ تحقیق کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ مختلف سروے منصوبے، جیسے چین کی لارج اسکائی ایریا ملٹی آبجیکٹ فائبر اسپیکٹرو اسکوپک ٹیلی اسکوپ (LAMOST) اور یورپ کا گایا سیٹلائٹ(Gaia)، اسپیکٹرل ڈیٹا مختلف طریقہ کار، ریزولوشن اور طولِ موج کی حدود میں حاصل کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا گویا مختلف لہجوں میں سنائی گئی کہانیوں کی مانند ہے، جسے براہِ راست یکجا کر کے بڑے پیمانے پر تجزیہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس ڈیٹا کی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے چینی اکیڈمی آف سائنسز کے نیشنل آسٹرونومیکل آبزرویٹریز، یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز (UCAS) اور دیگر اداروں کے محققین نے فلکیات میں بڑے لسانی ماڈلز سے ملتے جلتے تصورات متعارف کرائے۔