اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے ایک نیا نینو میٹیریل تیار کیا ہے جو کینسر کے خلیات کو اندر سے تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ مادہ جب ٹیومر کے خلیے کے اندر داخل ہوتا ہے تو دو الگ الگ کیمیائی ردِعمل کو متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خلیہ شدید آکسیڈیٹو تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ اردگرد کا صحت مند ٹشو محفوظ رہتا ہے۔
یہ دریافت کیموڈائنامک تھراپی (CDT) کے ابھرتے ہوئے شعبے کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ کینسر کے علاج کی یہ نئی حکمتِ عملی ٹیومرز کے اندر موجود منفرد کیمیائی ماحول سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ عام بافتوں کے مقابلے میں کینسر کے خلیات زیادہ تیزابی ہوتے ہیں اور ان میں ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی مقدار بھی زیادہ پائی جاتی ہے۔
روایتیCDTانہی حالات کو استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروکسل ریڈیکلز پیدا کرتی ہے۔ یہ نہایت سرگرم مالیکیول ہوتے ہیں جو آکسیجن اور ہائیڈروجن پر مشتمل ہوتے ہیں اور جن میں ایک غیر جوڑا الیکٹران موجود ہوتا ہے۔ یہ ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز خلیات کو آکسیڈیشن کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں، یعنی چکنائیوں، پروٹینز اور ڈی این اے جیسے اہم اجزا سے الیکٹران چھین لیتے ہیں۔
جدیدCDTطریقوں نے ٹیومرز کے اندر سنگلٹ آکسیجن پیدا کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے۔ سنگلٹ آکسیجن بھی ایک ری ایکٹو آکسیجن اسپیشی ہے، جس کا نام اس کے منفرد الیکٹران اسپن اسٹیٹ کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جو فضا میں موجود مستحکم آکسیجن مالیکیولز کے تین اسپن اسٹیٹس سے مختلف ہوتا ہے۔
محقق اولیہ ٹیراٹولاکے مطابق موجودہ CDT ایجنٹس محدود صلاحیت رکھتے ہیں (وہ یا تو ہائیڈروکسل ریڈیکلز مؤثر انداز میں پیدا کرتے ہیں یا سنگلٹ آکسیجن مگر دونوں ایک ساتھ نہیں)۔ مزید یہ کہ ان میں اتنی کیٹالٹک سرگرمی نہیں ہوتی کہ ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز کی بھرپور اور مسلسل پیداوار برقرار رکھ سکیں۔ اسی وجہ سے ابتدائی مطالعات میں اکثر صرف جزوی طور پر ٹیومر سکڑتا ہے اور دیرپا علاجی فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ٹیم نے لوہے پر مبنی میٹل-آرگینک فریم ورک(MOF)سے تیار کردہ ایک نیا CDT نینو ایجنٹ بنایا۔
یہ ساخت بیک وقت ہائیڈروکسل ریڈیکلز اور سنگلٹ آکسیجن دونوں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے اس کی کینسر سے لڑنے کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اسMOF نے مختلف کینسر سیل لائنز میں مضبوط زہریلا اثر دکھایا، جبکہ غیر سرطانی خلیات کو کم سے کم نقصان پہنچایا۔