امریکا، اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد  پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات بھی متاثر

آئی ایم ایف وفد کی قیادت مشن چیف ایوا پیٹروا جب کہ پاکستانی معاشی ٹیم کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے پاس ہے


ویب ڈیسک March 02, 2026

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونیوالی سیکیورٹی صورتحال کے باعث بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف)کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ پر جاری مذاکرات بھی متاثرہوگئے ہیں۔

آئی ایم ایف جائزہ مشن اسلام آباد میں پہلی میٹنگز کے بعد واپس روانہ ہوگیا ہے اسلام آباد میں ہونیو الے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے مجموعی اصلاحات کو سراہتے ہوئے ریونیو بڑھانے سمیت مزید اقدامات پر زور دیاہے اور اور اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ تیسرے اقتصادی جائزہ پر مذاکرات سے ورچوئل ہونگے۔

وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آن لائن مذاکرات ہوں گے۔

وفد کے ساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات کی آج سے تمام میٹنگز ورچوئل ہوں گی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث وفد سے ورچوئل مذاکرات کا فیصلہ ہواحکام کا کہنا ہے کہ ورچوئل مذاکرات میں شیڈول کے مطابق ہی میٹنگز ہوں گی۔

ورچوئل مذاکرات میں شیڈول کے مطابق ہی میٹنگز ہوں گی واضح رہے کہ قرض پروگرامز کی 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے حصول کیلیے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اسلام آباد میں شروع ہوا تھا۔

پاکستان کی معاشی ٹیم سے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کی ابتدائی ملاقات میں وزیر خزانہ نیمعاشی اشاریوں میں بہتری پر اعتماد میں لیا اور وفد کو بتایا کہ حالیہ مشکل فیصلوں کے باعث معیشت درست سمت میں گامزن اور قرض پروگرام آن ٹریک ہے پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات کا دوسرا راونڈ اسلام آباد میں شروع ہوا۔

آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا کی قیادت میں وفد نے وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے نجی ہوٹل میں افتتاحی ملاقات کی وزیر خزانہ نے ملکی معیشت میں حالیہ بہتری کی صورت حال سے آگاہ کیا۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا مہنگائی دسمبر 2025 میں کم ہو کر 5.2 پر اور شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 10.5 فیصد پر آچکی۔ پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت ہوئی۔ زرمبادلہ ذخائر 16 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے،کرنٹ اکاوٴنٹ خسارہ 1.17 ارب ڈالر تک محدو رہا بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 6 فیصد بہتری ائی ٹیکس اورتوانائی شعبے سمیت اصلاحات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے پہلی ششماہی کی رپورٹ پیش کی جس کے مطابق ٹیکس ریونیو جولائی تا دسمبر ہدف کے مقابلے میں 329 ارب روپے کم رہا البتہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں بہتری آئی معاشی سرگرمیوں میں سست روی،مہنگائی میں کمی سمیت ریونیو میں کمی کی مختلف وجوہات بتائی گئیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے مجموعی اصلاحات کو سراہا اور ریونیو بڑھانے سمیت مزید اقدامات پر زور دیاہیذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج 4 سے 5 مختلف اجلاس ہونگے۔

حکومتی ٹیم خراجات کا ترجیحی پلان شیئر کرے گی۔ بجٹ اہداف سمیت مجموعی آوٴٹ لک اور سیلاب کے معاشی اثرات کا جائزہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

آئی ایم ایف صوبائی ٹیکس محاصل خصوصاً زرعی آمدن پر ٹیکس کا بھی جائزہ لے گا۔ بیرونی قرض ،فنانسنگ ، فنڈنگ اور مستقبل کی ادائیگیوں کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔۔