اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
بھارت میں ان کے نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ سکیورٹی حکام نے کئی مرتبہ سپریم لیڈر خامنہ ای کو محفوظ مقام یا کسی دوسرے شہر منتقل ہونے کا مشورہ دیا تھا، تاہم انہوں نے انکار کر دیا۔
ڈاکٹر عبدالماجد کے مطابق خامنہ ای کا کہنا تھا ’پہلے پوری ایرانی قوم کو کسی دوسرے شہر منتقل کرو، پھر میں جاؤں گا۔ پہلے عوام کو زیر زمین بنکر میں منتقل کیا جائے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت خامنہ ای اپنے گھر کے دفتر میں موجود تھے جب میزائل حملہ کیا گیا۔ ان کے بقول اس حملے میں ان کی اہلیہ، بہو اور پوتے بھی شہید ہوئے۔
ان دعوؤں کے بعد ایران میں سوگ کی فضا برقرار ہے جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔