نیوٹیک کے وزیر اعظم اورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت طلباء نے ٹریننگ مکمل کرلی ۔چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ نیوٹیک کی ٹیم مسلسل محنت کر رہی ہے۔ حکومت آسانیاں پیدا کر رہی ہے اور تربیت یافتہ افراد کے لیے بیرون ملک ڈیجیٹل اکاوٴنٹس کھولنے کا اقدام بھی کیا جا رہا ہے۔
نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے زیر اہتمام وزیر اعظم اورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے تحت تربیت مکمل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں ویزا اجراء کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
تقریب میں چیئرپرسن نیوٹیک گلمینہ بلال، ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر جان اور طلبہ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ نیوٹیک کی ٹیم مسلسل محنت کر رہی ہے اور تربیت میں موجود کمی کو دور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے بزنس اینڈ ایگریکلچر کے لیے بلاسود قرضہ اسکیم شروع کی ہے جس کے تحت دس لاکھ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکتا ہے تاکہ بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو کسی سے ادھار نہ لینا پڑے۔
رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت آسانیاں پیدا کر رہی ہے اور تربیت یافتہ افراد کے لیے بیرون ملک ڈیجیٹل اکاوٴنٹس کھولنے کا اقدام بھی کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس وقت چالیس لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جو ڈیجیٹل اکاوٴنٹ نہیں کھول سکتے۔
رانا مشہود احمد خان نے مزید کہا کہ یوتھ ایمپلائمنٹ لیبر پالیسی کی کابینہ سے منظوری ہو چکی ہے جس کے تحت ملازمتوں میں 35 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا جائے گا۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر جان نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب خصوصی اور اسپیشلائزڈ تربیت کا انعقاد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو بین الاقوامی اداروں میں بہترین روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور انہیں دیگر ممالک کے ورکرز کے برابر معاوضہ دلوانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی لیبر فورس کو بیرون ملک مختلف مسائل کا سامنا رہتا ہے تاہم سمندر پار کام کرنے والے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا جانے والا زرمبادلہ ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چیئرپرسن نیوٹیک گلمینہ بلال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے لیے نیوٹیک ٹیم نے دن رات محنت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب نیوٹیک کا کردار صرف ریگولیٹ کرنے اور تربیت تک محدود تھا، مگر اب اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تربیت کے بعد روزگار بھی ملے۔