میڈرڈ / واشنگٹن: اسپین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے۔
امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشنز کے لیے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسپین میں جا کر ان کا فوجی اڈہ استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔
اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پہلے ہی ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
اسپین کے وزیر خارجہ حوزے مینول البیرس نے واضح کیا کہ ملک کے فوجی اڈے جو امریکا کے ساتھ مشترکہ طور پر چلائے جاتے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گے۔
اس فیصلے کے بعد امریکا نے جنوبی اسپین کے روٹا اور مورون فوجی اڈوں سے 15 طیارے، جن میں ایندھن بردار ٹینکر بھی شامل تھے، منتقل کر دیے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسپین نے برا رویہ اختیار کیا ہے اور انہوں نے اپنے وزیر خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام لین دین ختم کر دیا جائے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا کو اسپین کے ساتھ تجارت میں 4.8 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل تھا۔