اسلام آباد:
ایک کیس کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ جن کیسز کی لائیو اسٹریمنگ ہوئی، اس کا نتیجہ بڑا منفی آیا ہے۔
مختلف جامعات کے بی پی ایس اساتذہ کی پرموشن سے متعلق کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں مقدمے کے حوالے سے ایچ ای سی کی پالیسی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر وکیل درخواست گزار سے دلائل طلب کرلیے۔
دورانِ سماعت موبائل ریکارڈنگ کرنے پر عدالت درخواست گزار ٹیچر پر برہم ہو گئی اور عدالتی عملے نے متعلقہ شخص سے موبائل فون ضبط کر لیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے شخص سے سوال کیا کہ آپ کون ہیں اور کرتے کیا ہیں؟
درخواست گزار نے جواب دیا کہ میں استاد ہوں۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ کو تو زیادہ احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم عدالت میں ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دیتے۔ جن جن کیسز کی لائیو اسٹریمنگ ہوئی ہے اس کا نتیجہ بڑا منفی آیا ہے۔ ٹی وی اور فلموں میں الگ ماحول ہوتا ہے۔
درخواست گزار نے اس موقع پر کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں، غلطی ہوگئی۔ اس موقع پر وکیل نے بھی عدالت سے معذرت کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ ٹیچر ہیں، میں خود انہیں کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔ عدالت نے ویڈیو ریکارڈنگ کرنے والے شخص کی معذرت قبول کر لی اور ایچ ای سی رپورٹ کے بعد آئندہ سماعت پر دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد ملتوی کردی۔