صیہونی دسترخوان پر پڑے مسلمان

فلسطین سے ایران ،ایران سے افعانستان، افعانستان سے پاکستان اور خطے کے تمام اسلامی ممالک میں خونِ مسلم بہایا جا رہا ہے۔



پاک افغان کشیدگی کی ابتداء سے لکھ رہا ہوں کہ اس جنگ میں ہار افغانستان اور پاکستان کی جب کہ فتح مشرکین اور یہود و ہنود کی ہوگی، عقل کے ترازو پر تول کر یہ اظہر من الشمس ہے یہ جنگ صرف افغانستان اور پاکستان نہیں بلکہ پوری  امت مسلمہ کے مفاد میں نہیں اور اس سے خیر برآمد نہیں ہوگی، مگر افسوس کہ افغانستان کے حکمرانوں نے حالات کی نزاکت کا ادراک نہیں کیا اور ان کی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جو جنگ شروع ہوئی اس کا اختتام سب کے لیے خصوصاً ان کے لیے ہولناک، اندوہناک اوراذیت ناک ہوگا۔ بوجھل دل اور قلم کی وجہ سے پاک افغان جنگ پر جو لکھنا بنتا تھا وہ لکھ نہیں پاتا اور خانہ پری کے لیے لکھنے کی ہمت نہیں تھی مگر امریکی سرپرستی میں ایران پر صہیونی بربریت نے تن بدن میں آگ لگا دی تو قلم اٹھایا۔ امریکی اور اسرائیلی صہیونیوں کے مشترکہ حملوں نے مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کے اضطراب میں کئی گنا اضافہ اور دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے کنارے پر لا کھڑا کردیا، صہیونی درندوں نے 86 سالہ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو سرکردہ شخصیات، اہل خانہ اور تین سالہ کَلی جیسی پوتی سمیت شہید کرکے ناصرف ایران بلکہ پورے عالم اسلام خصوصاً اس خطے کو آتش فشاں اور بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

آگ اگلتے میزائلوں کے شعلے صرف ایران کی سرحدوں  تک محدود نہیں رہے، ایران صرف اسرائیل پر نہیں متحدہ عرب امارات،  قطر، بحرین، اردن، سعودی عرب، ترکیہ اور کویت بھی ڈرون اور میزائل برسا رہا جس نے پورے خطے کی سلامتی اور طاقت کے توازن کو بگاڑ دیا ہے، مذکورہ ممالک تو حالت جنگ میں ہیں مگر ایران نے امریکی فوجی اڈوں کے ساتھ سفارتخانوں اور قونصل خانوں پر بھی حملے شروع کردیئے لہٰذا ا ب تو اس خطے کا کوئی ملک محفوظ نہیں رہا ،ریجن کی فضائی حدود میں کمرشل و نان کمرشل پروازیں مکمل طور پر بند، جنگی طیاروں اور میزائلوں کی گونج نے خوف و غم کا سماں باندھ دیا ہے۔ امریکی بحری بیڑے پر آگ لگی ہے اور لگتا ہے ٹرمپ اور نیتن یاہو شہدا کے خون میں ڈوب جائیں گے۔

اس وقت آدھا عالم اسلام یہود و نصاریٰ اور ہنود کی مسلط کردہ بلاواسطہ اور بالواسطہ جنگوں کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ فلسطین سے ایران ،ایران سے افعانستان، افعانستان سے پاکستان اور خطے کے تمام اسلامی ممالک میں خونِ مسلم بہایا جا رہا ہے۔ ہم پر ناصرف عالم کفر براہ راست حملہ آور ہے بلکہ انکی سازشوں کا شکار ہو کر مسلمان، مسلمان کا خون بہا رہے ہیں۔ میں نے اپنی 60 سالہ زندگی میں امت پر ایسا کڑا وقت پہلے کبھی دیکھا نہ بزرگوں سے سنا۔

میں تو بحیثیت مسلمان پاکستان، افغانستان، ایران سمیت تمام مسلمان ممالک سے درخواست کرتا ہوں کہ ایک دوسرے کے خلاف تلوار نکالنے کو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات یعنی احادیت کے آئینے میں دیکھ کر ہوش کے ناخن لیں اور ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر امریکی سرپرستی میں صہیونی یلغار کا مل کر مقابلہ کریں ورنہ دین و دنیا کی بربادی سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔ امریکی سرپرستی میں صہیونی و مشرکین کی یلغار اور مسلمانوں  کی بے بسی دیکھ کر یہ حدیث رولا دیتی ہے۔

حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "قریب ہے کہ عالم کفر تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑے گا جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں"۔ ایک صحابی نے پوچھا "کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟" آپ ﷺ نے فرمایا"نہیں،بلکہ تم اس وقت بہت ہوں گے ، لیکن سیلاب کی جھاگ کے مانند ہوں گے ، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا"پھر پوچھا گیا " اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا"یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے"۔ (ابوداود حدیث نمبر 4297) آج امت مسلمہ پر عالم کفر ایسا ٹوٹ پڑا ہے جیسے بھوکے دسترخوان پر پڑے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں، بے حس حکمرانوں کی وجہ سے امت مسلمہ کا ہر ملک ان بھوکوں کے لیے تر نوالہ بن چکا ہے۔ یہ بھوکے عراق کو نگل گئے، شام کو کھا گئے، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، لیبیا میں اودھم مچایا، آٹھ دہائیوں سے کشمیر و فلسطین کو بھوکے کتوں کی طرح نوچ رہے ہیں۔ روئے زمین پر موجود 57 اسلامی ممالک اورڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان بے بسی و لاچاری کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں اور حکمران اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے مصلحتوں کا شکار ہیں‘ افسوس کہ پہلے عالم کفر صرف ہمارے ہی وسائل سے ہم پر حملہ آور تھا اور اب ہمیں ایک دوسرے کے ذریعے کاٹ رہے ہیں مگر پوری امت پر سکوت طاری ہے۔ آخر کیوں؟ تاریخ کے جھرکوں میں جھانک کر دیکھا تو نگینوں سے مزین ہال تلواریں تھامے سپاہیوں کے درمیان سونے سے جڑی تخت پر بیٹھے قیصرِ روم کے سامنے بیڑیوں میں جکڑا ایک قیدی نبی رحمت ﷺ کا تربیت یافتہ غلام عبداللہ بن حذیفہؓ کو پیش کیا جاتا ہے۔

قیصر روم نے کہا عیسائیت قبول کرلو، آزادی اور عزت پاؤ گے۔ جواب آیا موت قبول ہے، ایمان کا سودا نہیں۔ نصف سلطنت کی پیشکش ہوئی۔ جواب آیا، اللہ کی قسم پوری سلطنت بھی دے دو تو لمحہ بھر کے لیے بھی دینِ محمد ﷺ سے نہ ہٹوں گا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب طاقت کے ایوان لرزے اور ایک قیدی کی استقامت کے سامنے دنگ رہ گیا۔ ابلتے تیل کی دیگ منگوائی گئی اور انکے سامنے دو قیدی جلائے گئے۔ مقصد حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ پر دباؤ ڈالنا اور ڈرانا تھا لیکن رسولِ کریمﷺ کے تربیت یافتہ صحابی سیدنا عبداللہ بن حذیفہؓ جن کا یقین تھا کہ "آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی (اللہ) کی ہے، وہی زندگی دیتا ہے اور موت بھی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے"۔ (سورۃ الحدید: آیت2)

وہ کیسے اس دنیا کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے عارضی بادشاہ قیصر روم کے ساتھ ایمان کا سودا کرتے؟ دو آدمیوں کو زندہ جلا کر مار دینے سے حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کی آنکھوں میں آنسو آئے تو قیصر روم سمجھے کہ شاید ڈر گئے، پھر اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے کی آفر دی گئی، پھر انکار ہوا۔ قیصر نے کہا پھر رو کیوں رہے ہو؟ جواب سن کر دربار ساکت ہوگیا۔ حضرت عبداللہؓ نے کہا کہ رو اِس لیے رہا ہوں کہ صرف ایک جان ہے، کاش میرے جسم کے بالوں کے برابر جانیں ہوتیں اور سب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا۔ یہ ہے وہ ایمان جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے"آج کافر تمہارے دین سے مایوس ہوچکے، ان سے نہ ڈرو، مجھ سے ڈرو"۔ (المائدہ: 3)

یہ سن کر قیصرِ روم ان کی بہادری اور جرآت مندی پر بہت حیران ہوا اور کہنے لگا اگر تم میرے سر کا بوسہ لے لو تو میں تمہیں آزاد کردوں گا۔

حضرت ابوحذیفہؓ نے پوچھا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو بھی رہا کردوگے؟ اس نے کہا، ہاں! میں تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردوں گا۔ تو آپؓ اس کے قریب آئے اور اس کے سر کا بوسہ لیا۔ قیصر روم نے حسب وعدہ حضرت عبداللہ بن حذیفہؓ کو تمام مسلمان قیدیوں کے ساتھ رہا کردیا۔ جب یہ لشکر واپس مدینہ پہنچا اورامیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کے بارے میں بتایا گیا تو سیدنا عمر ؓ سن کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے"ہر مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ عبداللہ بن حذیفہؓ کے سر کا بوسہ لے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔یہ صرف ایک واقعہ نہیں جابر و ظالم کے سامنے جبل استقامت بن کھڑے رہنے کی ہماری تاریخ اور ورثہ ہے، آج 57 اسلامی ممالک کے ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان وسائل سے مالا مال، طاقتور افواج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے لیس ہیں لیکن نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ہماری حیثیت جھاگ سے زیادہ نہیں، ہمارا کوئی وزن نہیں اسی لیے عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے تر نوالہ ثابت ہورہے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہن(دنیا کی محبت اور موت کا ڈر )دلوں میں اتر آیا ہے۔ مفاد پرست حکمران اپنی ناک سے آگے دیکھنے سے معذور اور حق کی قیمت پر بھی مفاد چاہتے ہیں اور موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے وہ انجام نہیں، فنا ہو۔ قرآن کہتا ہے"اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔" (الرعد: 11)

ہمیں اپنی حالت بدلنا ہوگی تاکہ ہم جھاگ سے سنگلاخ چٹان بن جائیں اور عالم کفر ہم پر ٹوٹ پڑا ہے اور ہم یکے بعد دیگرے ان کے لیے ترنوالے ثابت ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں