HAVANA:
کیوبا کے بیشتر علاقے اچانک بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث تاریکی میں ڈوب گئے جس سے دارالحکومت ہوانا سمیت ملک کے طول و عرض میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔
سرکاری بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق یہ وسیع بلیک آؤٹ اس وقت پیش آیا جب ہوانا سے تقریباً 100 کلومیٹر مشرق میں واقع انتونیو گوئتریس تھرمو الیکٹرک پلانٹ اچانک بند ہو گیا۔ اس غیر متوقع خرابی کے بعد مغربی صوبے پینار ڈیل ریو سے لے کر مشرقی لاس توناس تک بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
ریاستی میڈیا کے مطابق ملک پہلے ہی شدید ایندھن بحران کا شکار ہے جبکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تیل کی ترسیل محدود کیے جانے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قلت نے پاور پلانٹس کی کارکردگی کو کمزور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نظام بار بار دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق ہوانا میں اچانک لائٹس بجھنے سے ٹریفک جام ہو گیا، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں ہنگامی جنریٹرز چلانے پڑے جبکہ متعدد علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی متاثر ہوئی۔
حکومت نے بحالی کا عمل شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم شہریوں میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ اگر ایندھن کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو ملک کو مزید طویل بلیک آؤٹس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل عراق میں بجلی کی طویل بندش کے باعث پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارت بجلی نے بتایا کہ اس وقت ایک ساتھ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔
عراقی وزارت بجلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔
وزارت بجلی نے بتایا کہ ملک بھر میں ہونے والے بجلی کے تعطل کے بعد بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے لیکن اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔