کند ہم جنس باہم جنس پرواز ، کبوتر با کبوتر باز بہ باز۔یہ ضرب المثل ہم میں سے اکثر نے ہوش سنبھالتے ہی کسی نہ کسی سے ضرور سنی ہو گی۔اس کا اطلاق ریاستوں پر بھی ہوتا ہے۔ریاستیں ایک دوسرے کے اچھے برے تجربات سے نہ صرف سیکھتی ہیں بلکہ مزید آگے بھی بڑھاتی ہیں۔
اب نیتن یاہو کے اسرائیل اور مودی کے بھارت کو ہی دیکھ لیں۔دو ہزار چودہ سے پہلے بھارت فلسطینی کاز اور دو ریاستی حل کا پرجوش وکیل تھا۔ گذشتہ بارہ برس میں بھارت کی فلسطین نواز پالیسی نے ایسا یوٹرن لیا کہ اب فلسطین کا ف بھی خارجہ پالیسی کے ریڈار سے غائب ہو چکا ہے اور اسرائیل اور بھارت اب منہ بولے بھائی ہیں۔دونوں ریاستوں میں متشدد قوم پرست سرکاریں ہیں اور ان کے نزدیک ہر اندرونی اور بیرونی مسئلے کا ایک ہی حل ہے یعنی غنڈہ گرد ڈنڈہ۔
جس طرح ایک صدی پہلے فلسطین پر یورپ سے نازل ہونے والے یہودی آبادکار مقبوضہ فلسطین میں صدیوں سے آباد عربوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ اور نسل کشی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی بھی مسلح حملوں کے ذریعے ناممکن بنانے کے لیے کوشاں ہیں اسی طرح بھارت میں بھی مسلمانوں کو ایک کونے میں دھکیلنے کے لیے سماجی بائیکاٹ پہلے سے کہیں زیادہ عروج پر ہے۔کرائے کا مکان نہ ملنا ، مسلمانوں کی ملکیت اونے پونے ہتھیا لینا حتی کہ مسلم خوانچہ فروشوں تک سے کوئی شے نہ خریدنا ، اقلیتی بچوں کو تعلیمی اداروں میں خوفزدہ کرنا یا الگ تھلگ کر دینا ایک قبولِ عام معمول ہے۔
جو مسلمان گھرانے تنگ آ کر عارضی طور پر بھی محلہ چھوڑ جاتے ہیں ان کا دوبارہ آبائی گھر میں بسنا تقریباً محال ہے۔چنانچہ انھیں کوڑیوں کے دام اپنی املاک بیچ کر کسی مزید پسماندہ مسلمان علاقے میں ہی سر چھپانے کی جگہ ملتی ہے۔ جیسے مقبوضہ مغربی کنارے کے ہزاروں اجڑے کسانوں کو رملہ ، تلکرم ، ہیبرون جیسے نسبستاً بڑے شہروں میں بطور پناہ گزین جبری زندگی گذارنا پڑتی ہے۔
اسرائیل نے مقبوضہ عرب علاقوں میں امریکی کیٹرپلر کمپنی کے بلڈوزروں کی مدد سے گذشتہ نصف صدی میں ہزاروں گھر منہدم کر کے لاکھوں فلسطینیوں کو بے آسرا کر دیا۔مودی حکومت کو یہ انداز اس قدر بھایا کہ اس نے ریاست گجرات میں ہی کیٹرپلر بلڈوزروں کی فیکٹری لگا لی۔بی جے پی سرکار والی ہر ریاست میں مسلمانوں کے گھر بلڈوز ہونے شروع ہو گئے۔
کبھی یہ بہانہ کہ تجاوزات صاف کی جا رہی ہیں۔ کبھی یہ عذر کہ فلاں گھر کے مکینوں نے غیر قانونی مظاہروں میں حصہ لے کر امنِ عامہ تباہ کرنے کی کوشش کی لہذا ان کے گھروں اور کاروباری املاک پر بلڈوزر تو چلے گا۔ یہ سزا جس امتیازی انداز میں دی جا رہی ہے اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بھارت میں غیرقانونی املاک صرف مسلمانوں کی ہیں اور وہی ایسے احتجاجی مظاہرے بھی کرتے ہیں جن سے امنِ عامہ خطرے میں پڑ جائے۔بالخصوص ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں تو اس پیمانے پر بلڈوزر چلایا گیا ہے کہ وزیرِ اعلی یوگی ادتیا ناتھ کا نام ہی بلڈوزر بابا پڑ گیا ہے۔
نومبر دو ہزار چوبیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی شہری کی ملکیت عدالت کو ٹھوس قانونی وجوہات بتائے بغیر منہدم نہیں کی جا سکتی بھلے اس شہری نے کوئی بھی جرم کیا ہو۔عملاً سپریم کورٹ کا یہ حکم بھی بلڈوزر تلے کچلا گیا۔
صیہونی نسل پرستی کی طرح نریندر مودی بھی خالص نسل پرست منووادی برہممن ہندوتوائی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اقلیتیں قانوناً درجہِ دوم کی شہری بن کے رہیں۔ اسرائیل بھی پہلے دن سے ایک ایسی ریاست ہے جو خالص یہودی صیہونی قوم پرستی پر استوار ہو۔ہندوتوائی اندھ بگھتوں کو بھی بتایا گیا ہے کہ اصل تاریخی بھارت کی حدود افغانستان تا سری لنکا پھیلی ہوئی ہیں۔بنی اسرائیل کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ تاریخی طور پر دریاِ نیل سے فرات کے درمیان جتنا بھی علاقہ ہے وہ عہدنامہ عتیق کے مطابق یہودیوں کی آسمانی ملکیت ہے۔
مودی حکومت نے پانچ اگست دو ہزار انیس کو جموں و کشمیر کی رہی سہی آئینی خودمختاری کا بھی تیاپانچہ کر کے پوری ریاست کو جیل بنا دیا۔اس حرکت کے لگ بھگ تین ماہ بعد نیویارک میں متعین بھارتی قونصل جنرل سندیپ چکرورتی نے ایک نجی اجتماع میں کہا کہ سرکار کو کشمیر میں اسرائیلی ماڈل نافذ کرنا چاہئیے ۔مسٹر چکرورتی غالباً کہنا یہ چاہ رہے تھے کہ جس طرح اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے سنگینوں کے سائے تلے چھینی ہوئی زمین پر دنیا کے کونے کونے سے لاکھوں یہودی آبادکار لا کر بسائے ہیں ۔اسی طرح کشمیر میں بھارت کی دیگر ریاستوں سے آنے والوں کو بسا کر مسلمان اکثریت کو اقلیت میں کیوں نہیں بدلا جا سکتا ، غیر کشمیریوں کو وادی میں رہائشی و تجارتی املاک خریدنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا سکتی۔ان کے لیے مقامی ملازمتوں کا دروازہ کیوں نہیں کھولا جا سکتا اور یوں آبادی کا تناسب اپنے حق میں کیوں نہیں کیا جا سکتا۔
مسٹر چکرورتی کی خواہشات حرف بحرف سچ ثابت ہوئیں۔کشمیریوں کی رہائش ، ملکیت ، ملازمت اور شناخت کے تحفظ کے لیے راجگی دور میں جو قوانین بنائے گئے ، سب اڑا دیے گئے اور نام نہاد کشمیر اسمبلی اور مقامی حکومتیں اسی طرح مرکزی گورنر کے ماتحت ہو گئیں جس طرح فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے کے اسرائیلی فوجی گورنر کے رحم و کرم پر ہے۔
جیسے اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کرنے والے فلسطینی مرد ، عورت اور بچے کو دھشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے ، گرفتار کرنے اور املاک پر قبضے یا انہدام کے لامحدود اختیارات حاصل ہیں ویسے ہی اختیارات بھارتی فوج کو کشمیر میں آئین کے آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت ملے ہوئے ہیں۔جس طرح اسرائیل فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل کے امکان کو ردی کی ٹوکری میں پھینک چکا ہے اسی طرح مودی سرکار کسی بھی کشمیری سے ریاستی خودمختاری کی بحالی کے معاملے پر بات چیت کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک چکی ہے۔بھلے یہ مطالبہ کوئی کٹر بھارت نواز کشمیری ہی کیوں نہ کرے۔
گذشتہ برس پہلگام میں ایک دھشت گرد حملے میں چھبیس بھارتی شہری مارے گئے تو ریپبلک ٹی وی کے معروف اینکر ارنب گوسوامی نے اسے انڈیا کا سات اکتوبر قرار دیا جس سے ایسے ہی نپٹنا ہوگا جیسے اسرائیل اہلِ غزہ سے نپٹ رہا ہے ۔
جس طرح اسرائیل اپنے عرب شہریوں کی چوبیس گھنٹے ڈیجیٹل نگرانی کرتا ہے اسی طرح مودی حکومت کشمیریوں ، مخالف سیاستدانوں ، صحافیوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی پر نگاہ رکھنے کے لیے موبائیل فونز اور انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کرنے والے پیگاسس سافٹ وئیر سمیت ساختہ اسرائیل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بہت بڑی خریدار ہے۔
کون کہتا ہے صیہونیت اور ہندوتوا جڑواں بہن بھائی نہیں ۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کیلیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)