افغان طالبان رجیم نے لڑکیوں کی کالز آنے پر مقامی ریڈیو کو بند کرادیا

افغان جرنلسٹس سینٹر نے ریڈیو اسٹیشن کی بندش کو آزاد میڈیا کیخلاف کاری ضرب قرار دے دیا


ویب ڈیسک March 07, 2026

انتہاپسند افغان طالبان میڈیا اور خواتین کے حقوق سلب کرنے کیلئے ہر حد پار کر گئے۔ 

افغان طالبان رجیم نے خواتین اور لڑکیوں  کی تعلیم پر پابندی کے بعد انکے میڈیا سے رابطے بھی ختم کر دیے، بزدل افغان طالبان خواتین کی آواز سے بھی خوفزدہ ہیں جنہوں نے خواتین کی کالز آنے پرمقامی ریڈیو اسٹیشن کو بند کرادیا۔

افغان میڈیا  افغانستان انٹرنیشنل اورہشت صبح  کے مطابق افغان طالبان رجیم نے لڑکیوں کی کالز آنے پر مقامی ریڈیو کی سرگرمیاں معطل کردیں، افغان جرنلسٹس سینٹر نے  طالبان  رجیم کے انتہا پسندانہ نظریات کی بنا پر ریڈیو اسٹیشن کی بندش کو آزاد میڈیا کیخلاف کاری ضرب قراردیا ہے۔

 افغان جرنلسٹس سینٹر کے مطابق مقامی ریڈیو اسٹیشن پابندیوں کے باعث تعلیم سے محروم لڑکیوں  کیلئے تعلیمی پروگرامز نشر کرتا تھا، طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے علاوہ ان کا میڈیا سے  رابطہ بھی ممنوع قرار دے رکھا ہے۔

ماہرین کےمطابق افغان طالبان سچ کی آواز سے خوفزدہ ہیں، خواتین کی تعلیم اور میڈیا تک رسائی پر پابندیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے منافی ہیں، افغان طالبان رجیم اپنے آمرانہ اقتدار کو طول  دینے کیلئے انتہاپسندانہ اقدامات اور پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

 

مقبول خبریں