تہران:
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک سے دشمن حملہ ہوگا اس کا جوب دینا ایران کا جائز حق ہے اور جواب دینا ہوگا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر وہ (دشمن) کسی بھی ملک سے ہماری حدود پر حملہ یا دراندازی کرتے ہیں تو ہمیں اس حملے کا جواب دینا ہوگا اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس ملک کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہیں یا ہم اس کے عوام کو ناراض کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے ایران کو خطے کے ممالک کا دوست اور بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سب کو مل کر امریکا اور اسرائیل کی خطرناک سازشوں کو ناکام بنانا چاہیے۔
ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کو اپنے اختلافات کو اندرونی طور پر حل کرنا چاہیے اور دشمنوں کی ان کوششوں کو ناکام بنانا چاہیے جو انہیں جنگ کی طرف دھکیلنے اور آپس میں اختلافات پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے ملک پر حملہ کرتے ہیں ہم ان کے خلاف مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھرپور جواب دے رہے ہیں، ہماری مسلح افواج اور رضاکار بسیج فورسز ملک بھر میں موجود ہیں، پوری طاقت کے ساتھ ملک کا دفاع کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ایران دھونس، ظلم اور جارحیت کے آگے ہرگز نہیں جھکے گا۔
ایرانی صدر نے بیان میں خطے کے عوام سے بھی معذرت کی جو موجودہ کشیدگی کی وجہ سے پریشان ہیں اور زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام، چاہے ان کے سیاسی رجحانات مختلف ہی کیوں نہ ہوں، دشمنوں کے خلاف متحد رہیں گے اور انہیں اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی لینے نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف غیرقانونی جارحیت کا ارتکاب کیا اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کیا، جو ایران کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک ایک ہزار 332 ایرانی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ ایران نے جوابی حملوں میں اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں اور خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔