طالبان رجیم کا خواتین دشمن چہرہ ایک بار پھر بے نقاب

افغان طالبان رجیم میں خواتین بدترین صنفی امتیازی سلوک کا شکار ہیں


ویب ڈیسک March 09, 2026

طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں انسانی بلخصوص خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور ظلم و جبر جاری ہے۔

یوم خواتین کے موقع پر کابل میں افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ اور افغان ویمنز کرائی موومنٹ کی جانب سے طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے خلاف بھرپور احتجاج ہوا۔

 افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ کی رکن خواتین نے "روٹی، کام، آزادی" اور  ہمارا دشمن طالبان" جیسے فلک شگاف نعرے بلند کیے۔ افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ کے مطابق؛
افغان طالبان رجیم کی انتہا پسند پالیسیوں کی وجہ سے خواتین کے حقوق کا بحران مزید گہرا اور منظم شکل اختیار کر چکا ہے۔

افغان ویمنز فریڈم لینٹرن موومنٹ نے کہا کہ طالبان رجیم کی جابرانہ پابندیوں نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور احتجاج کے حقوق چھین کر لاکھوں عورتوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔

افغان ویمنز کرائی موومنٹ کے بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم میں خواتین کو منظم انداز میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے۔ افغان طالبان رجیم میں خواتین بدترین صنفی امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں اور دہشتگردوں کی سرپرستی افغان طالبان رجیم کی پہچان بن چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گرد گروہوں کے بجائے خواتین کی سماجی، معاشرتی اور اقتصادی زندگی پر توجہ دیں۔  

مقبول خبریں