امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس معاملے پر مختصر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں گے کیا ہوتا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے حوالے سے فیصلہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے سے کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے مطابق اس معاملے پر ان کی نیتن یاہو سے بات چیت ہو چکی ہے اور مناسب وقت پر فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جو ان کے والد کا ہوا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔
ایران کی مجلس خبرگان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد برقرار رکھا جائے اور نئے سپریم لیڈر کے ساتھ وفاداری کا اظہار کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات بھی بتائے جاتے ہیں۔