زرعی شعبےمیں خواتین کےکردار کو خراجِ تحسین: فاطمہ فرٹیلائزر کی“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”مہم کا آغاز

مہم زرعی ویلیو چین کے مختلف مراحل پر کام کرنے والی خواتین کی ہمت، قوت اور بے مثال محنت کو سراہتی ہے


ویب ڈیسک March 09, 2026

زرعی شعبے میں خواتین کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے فاطمہ فرٹیلائزر نے عالمی یومِ خواتین پر“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”مہم کا آغاز کر دیا۔

عالمی یومِ خواتین کے موقع پر فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے اپنی خصوصی ڈیجیٹل ویڈیو مہم“سرسبز تعبیر: سیڈز آف چینج”کا آغاز کیا ہے، جس کے ذریعے پاکستان میں زرعی شعبے کے مستقبل کو سنوارنے والی خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

یہ مہم زرعی ویلیو چین کے مختلف مراحل پر کام کرنے والی خواتین کی ہمت، قوت اور بے مثال محنت کو سراہتی ہے۔ وہ خواتین جن کی خدمات نے سماجی اور معاشی چیلنجز کے باوجود ہمیشہ کمیونٹیز کو سہارا دیا۔

طاقتور کہانیوں کے ذریعے“سیڈز آف چینج”دیہی خواتین کے اس اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والے کردار کو اجاگر کرتی ہے جو بطور کسان، کاروباری خواتین، اور تبدیلی کی علمبردار کے طور پر زرعی ترقی کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

اس اقدام میں فاطمہ فرٹیلائزر کا نمایاں کردار، خواتین بااختیار پروگرام“سرسبز تعبیر”ہے، جو 2022 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ دیہی خواتین کی آواز کو پاکستان کی زرعی کہانی کا حصہ بنایا جا سکے۔

یہ پروگرام چار بنیادی ستونوں،تعلیم، مالی معاونت، مہارتوں کی ترقی اور صحت پر قائم ہے، جو خواتین کو مالی خودمختاری اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی وسائل فراہم کرتا ہے۔

اس پروگرام کے تحت USAID سے تصدیق شدہ ماہرین کی جانب سے باقاعدہ تربیتی سیشنز کے ذریعے پاکستان بھر میں 3,500 سے زائد خواتین کو فوڈ پروسیسنگ کی تربیت دی جا چکی ہے۔

اس تربیت کے ذریعے خواتین اضافی زرعی پیداوار کو ویلیو ایڈڈ اور قابلِ فروخت مصنوعات میں تبدیل کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف فصل کے بعد کے نقصانات کم ہوتے ہیں بلکہ آمدنی کے ذرائع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

یہ پروگرام “اخوت”کے تعاون سے دیہی خواتین کو بلا سود قرضے بھی فراہم کرتا ہے، جس کی بدولت بہت سی خواتین چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض خواتین ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو مصنوعات فراہم کر رہی ہیں جبکہ کچھ اپنی چھوٹی دکانیں بھی چلا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ، یہ پروگرام مختار اے شیخ ہسپتال اور حکومتِ پنجاب کے تعاون سے صحت کے کیمپس بھی منعقد کرتا ہے، جہاں زراعت سے منسلک خواتین اوران کے خاندانوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

اس طرح کے اقدامات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ جب نجی شعبہ کمیونٹی کی ضروریات کے مطابق کام کرے تو وہ ایک جامع اور مضبوط زرعی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز رابیل سدوزئی نے کہا “خواتین ہمیشہ سے پاکستان کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر ان کی خدمات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔‘سیڈز آف چینج’مہم اور ہمارے‘سرسبز تعبیر’پروگرام کے ذریعے ہم ان کی ہمت اور محنت کو سراہنا چاہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی ایسے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں جو دیہی خواتین کو مالی خودمختاری حاصل کرنے اور زرعی شعبے کے مستقبل کی تشکیل میں زیادہ مؤثر اور پائیدار کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں۔ خواتین کو بااختیار بنانا صرف سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ پائیدار زرعی ترقی اور قومی خوشحالی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔”

بااختیار ہونے کی حقیقی کہانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے“سیڈز آف چینج”مہم فاطمہ فرٹیلائزر کے جامع زرعی ترقی اور خواتین کی بااختیاری کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔فاطمہ فرٹیلائزر پاکستان کے لیے ایک مثبت مثال قائم کر رہی ہے، جہاں ایسی ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے جو ملک کے زرعی نظام کو مضبوط بنانے میں خواتین کے ناگزیر کردار کو تسلیم اور نمایاں کرتی ہے۔

 

مقبول خبریں