حکومت بلوچستان نے سیاسی رہنماؤں کے لیے تھریٹ الرٹ جاری کردیا، تھریٹ الرٹ میں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے اراکین اسمبلی اور دیگر سیاسی رہنماوں کی جان کو خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
جے یو آئی بلوچستان کے امیر سینیٹر مولوی عبد الواسع اور مرکزی جنرل سیکرٹری مولوی عبد الغفور حیدری کی حفاظت کے لیے الرٹ جاری کیا گیا۔
مراسلہ میں بتایا گیا بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور اراکین اسمبلی اصغر خان ترین اور زابد ریکی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
۔حکومت نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ مراسلہ فرنٹیئر کور، پولیس، کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو بھی ارسال کیا گیا ہے، تمام سیاسی رہنماوں کی رہائش گاہوں اور دفاتر کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
جے یو آئی کا تھریٹ لیٹر پر ردعمل
جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پارلیمانی اراکین کو تھریٹ الرٹ جاری کرنا امن و امان کے قیام میں ناکامی کا اعتراف ہے۔
اسلم غوری کا کہنا ہے کہ پورے بلوچستان میں صرف جے یو آئی اراکین کی جان کو خطرہ ہے اور صوبے کو نااہل اور جعلی وزیر اعلیٰ سے خطرہ لاحق ہے۔
ترجمان جے یو آئی نے بتایا کہ یہ لیٹر 2024 کے جعلی انتخابات کے زخم کو تازہ کر دیتا ہے اور حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اسلم غوری نے مزید کہا کہ یہ لیٹر خضدار اور قلات کے ضمنی انتخابات سے جے یو آئی کو دور رکھنے کا بہانہ ہے اور اسے قبل از انتخابات دھاندلی تصور کیا جاتا ہے۔
جے یو آئی نے کہا کہ اگر اراکین اسمبلی اور قومی قیادت محفوظ نہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا، اور خضدار و قلات میں پرانے طریقے سے دھاندلی کا منصوبہ نظر آ رہا ہے۔
اسلم غوری نے یقین دلایا کہ جے یو آئی قیامِ امن اور قیادت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔