اپوزیشن اتحاد اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت سے بورڈ آف پیس سے فوری نکلنے، ایران جنگ میں فریق نہ بننے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، بابر اعوان علامہ راجہ ناصر عباس نے پیر کے روز پریس کانفرنس کی۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس وقت خلیجی ممالک میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، خطے پر بربریت مسلط کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمان میں ہونے والی گفتگو نتیجے ہر پہنچنے والی تھی مگر صہہونی قوتوں نے سب تہس نہس کر دیا، وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ہم ایک ایٹمی قوت ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جا رہا ہے، ملک میں جھوٹ کے ذریعے انتشار برپا کیا گیا اور عوام پر ایک جعلی جھوٹی حکومت مسلط کر دی گئی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ املاک کا نقصان نہ عرب ممالک میں ہونا چاہیے نہ دیگر ملکوں میں، اب سب کو اکٹھے بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہے، سب کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں ماضی میں جو غلطی کی گئی وہ نہ دہرائی جائے، ایک دن قبل لوگوں کو غیر موجودگی میں سزائیں سنائی گئی، مجموعی طور پر سنائی جانے والی سزائیں 50 50 سال تک پہنچ گئیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 55 روپے فی لیٹر پٹرول میں اضافہ عندیہ ہے کہ ہمارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے، خطے میں کسی اور ملک میں اتنی قیمت نہیں بڑھی جبکہ ہمارے ہاں اشرافیہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی شاہ خرچی کم کرنے کے بجائے بوجھ عوام پر ڈال دیا۔
انہوں نے کہا کہ اشرافیہ اپنی شاہ خرچی اور عیاشیوں کیلیے مہنگے جہاز خرید رہی ہے جن پر ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات آئیں گے، ہمیں اس نظام کو بدلنا ہو گا، یہ وقت ہے جب ماضی پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دنیا کے تمام قوانین کو پاوں تلے روند دیا، وینزویلا میں جو ہوا سب کے سامنے ہے، اس وقت گریٹر اسرائیل کے موضوع پر کام ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف ایران پر حملہ نہیں پوری امہ پر ہے، عرب ممالک میں جو اڈے بنے آج سب کے سامنے وجوہات آگئیں، عرب میں اڈے انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے بنائے تھے۔
پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے کہا کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شمولیت کو فوری معطل کر دے، انڈونیشیا نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ روک دیا ہے، نیتن یاہو عالمی سطح پر ڈکلئیرڈ مجرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 47 لوگوں کو ان کی عدم موجودگی میں سزائیں سنائی گئیں، اکثر ایسے لوگ شامل ہیں جن میں کسی پر پتھر اٹھانے کا بھی الزام نہیں تھا، ان مقدمات میں سنائے گئے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
بابر اعوان نے کہا کہ جنہوں نے پریس کانفنرس کی ان کے گناہ معاف ہو گئے، قوم کو بتایا گیا کہ یہ مذاق ہو رہا ہے، ایک آرڈیننس کے تحت ایک سرکاری ملازم کو 3 سال کی توسیع دی گئی، آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ پر تالا لگا دیا گیا، وفاقی عدالت کو قائم کر کے کہا گیا یہ آئینی مقدمات سنے گی، اب وہی عدالت پہلا فوجداری مقدمہ بھی سنے گی۔
بابر اعوان نے کہا کہ کل بانی پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت ہے، ہم دیکھیں گے کل کیسے انصاف ہوتا ہے ، انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب بہت ضروری ہوگیا ہے کہ حکومت کو بھیجا جائے یا پھر شفاف الیکشن کروائے جائیں، ایسا کوئی فارمولا نہیں بنا کہ عمران خان کے بغیر معاملات ٹھیک ہو سکیں، فوری طور پر عمران خان کو رہا کر کے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں دو اسلامی ممالک کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہیے، اگر حکومت کو صدر ٹرمپ کو امن انعام دینا ہے یا بورڈ آف پیس میں جانا ہے تو ریفرنڈم کروا لیں۔