چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات کے باوجود اپنی پالیسی اسٹیٹمنٹ نہیں دی، خیبرپختونخوا کے لوگ مخلص ہیں اور کہیں کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔ ہم نے افغانستان کو کہا تھا پراکسی نہ بنے، ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
اڈیالہ روڈ داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں یہ میسج دیا گیا تھا کہ وزیر اعظم جب اسمبلی آئین گے تو ملاقات ہو جائے گی، رانا صاحب انجم صاحب بھی آئے مگر ملاقات نہیں ہو سکی، ملاقاتیں ہو یا مزاکرات اس میں سنجیدگی ضروری ہے، مزاکرات پر کوئی شرائط نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ تحفظات کا اظہار کیا مگر مئی میں بھی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے، ایسی کامیابیاں اللہ نے دے دیں جس پر تاریخ رقم ہوئی ہے، ہماری ملاقات ہوئی دعوت دی گئی تو ہم نے کہا کہ بہتر ہے اس بارے میں ایوان کو بھی بتایا جائے ہم نے بس اتنی سے شرط رکھی تھی، پی ٹی آئی خطے کے حوالے سے موقف دے چکی جو پاکستان کے دشمن ہیں وہ دہشتگرد ہیں۔ لیڈر شپ رجیم چینج کی بات غط ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں پر اسٹاک حکومت کے پاس ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، آپ بیشک زوم پر کام کروا لیں مگر اپنی شاہ خرچیوں کو بند کریں، اسمبلی اہم ترین فورم ہے یہ کہنا کہ وزیراعظم ہاؤس میں لے کر جاتے ہیں سمجھ نہیں آتا؟ آپ چند لیڈروں کو بریف کرنے کے بجائے ایوان کو بریف کر دیجیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور پارٹی ایران سے درخواست کی ہے کہ مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنائے دشمن چاہتا ہے ہم آپس میں لڑیں۔ ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو تھوڑا سا وقت دیجیئے تاکہ یہاں سے جا سکیں۔نیشنل ایکشن پلان کے چودہ نکات پر من و عن عمل ہونا چاہیئے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اس وقت کی صورتحال میں انڈیا افغانستان کے پیچھے کھڑا ہے، ایک ملک کے اگر پانچ قونصلیٹ ہیں تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، قونصلیٹ کی آڑ میں بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہو چکی ہوتی۔ ان بھی فیملی باہر کھڑی ہے آپ انہیں اور وکلاء کو ملنے دیں۔ انہوں نے پیٹرول بڑھا دیا نیٹ میٹرنگ ختم کر دی آپ خدارا کچھ تو خیال کرو۔