اسرائیل کے قیام پر برطانیہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ، 45 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے خط لکھ دیا

خط میں کہا گیا کہ بالفور اعلان کے نتائج آج بھی مشرق وسطیٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں


ویب ڈیسک March 11, 2026

برطانیہ کے درجنوں ارکان پارلیمنٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں اپنے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 45 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ اور ہاؤس آف لارڈز کے اراکین نے وزیر اعظم کئیر اسٹارمر کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو اپنے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

خط میں کہا گیا کہ بالفور اعلان کے نتائج آج بھی مشرق وسطیٰ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ ارکان پارلیمنٹ کے مطابق اسی اعلان نے بعد میں ایسے حالات پیدا کیے جن کے نتیجے میں 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا اور فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر مشکلات اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ برطانوی حکومت کو اس تاریخی معاہدے کے اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

یاد رہے کہ سلطنت عثمانیہ کی شکست کے بعد برطانیہ نے تقریباً تین دہائیوں تک فلسطین پر 1948 تک حکمرانی کی۔ تاہم برطانیہ کی مختلف حکومتیں اب تک اس دور کے حوالے سے باضابطہ معافی مانگنے یا ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔

مقبول خبریں