ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے پر اپنی پارٹی سے وفاقی حکومت سے اتحاد ختم کرنے اور وزارتیں چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے کامران ٹیسوری کو گورنر کے عہدے سے ہٹانا چونکا دینے والی خبر ہے اور یہ بات میڈیا کے ذریعے سامنے آئی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسا فیصلہ کرنا تھا تو ایم کیو ایم سے مشاورت کرنی چاہیے تھی، ایم کیو ایم سے بات کیے بغیر ایسے فیصلے کر کے غلط روایات قائم کی جا رہی ہیں، ن لیگ والے اپنے مفاد کے فیصلوں میں ایم کیو ایم سے ووٹ ڈلو ا لیتے ہیں۔
وسیم اختر نے کہا کہ میری رائے ہوگی کہ ہمیں وزارتوں سے باہر آ جانا چاہیے اور پارٹی کے ذمے داروں کو وزیر اعظم سے بات کرنی چاہیے جبکہ ہمیں فوری طور پر وزارتوں سے الگ ہو جانا چاہیے، ہمارے مطالبات کی کسی ایک شق پر بھی عمل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سے کیے گئے مطالبات پورے نہیں کیے گئے،ہماری جماعت کے عہدیداروں کو اب بیٹھ کر دیکھنا ہو گا کہ ایم کیو ایم کو کیوں ہلکا لیا جا رہا ہے، گورنرکے عہدے کا اختیار ایم کیو ایم کے پاس ہی رہے گا کیونکہ ویزاعظم نے خود اس بات کو قبول کیا تھا۔
وسیم اختر نے کہا کہ ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت ہے، کسی کو ہٹانے کی خواہش ایسے تھوڑی پوری ہوتی ہے۔
سابق میئر کراچی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم ون دور میں ایم کیو ایم نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے، شہباز شریف نے ہمارے مطالبات پر اتفاق کیا تھا، بغیر مشورے اور اعتماد میں لیے بغیر ایسے فیصلے سمجھ سے باہر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کوشش تو کی ہو گی ، گورنر صاحب کی سیاسی مداخلت کو وجہ بنایا ہے، صدر ہاؤس بھی تو سیاسی تقاریب کر رہا ہے۔