سونے سے پہلے دودھ پینا ہر کسی کے لیے مفید نہیں، ماہرین نے خبردار کردیا

ہر انسان کا جسم دودھ کو یکساں طور پر ہضم نہیں کر پاتا


ویب ڈیسک March 16, 2026

دنیا بھر میں دودھ کو صحت بخش غذا سمجھا جاتا ہے اور بہت سے لوگ رات کو سونے سے پہلے دودھ پینے کو بہتر نیند کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔

تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہر انسان کا جسم دودھ کو یکساں طور پر ہضم نہیں کر پاتا، جس کے باعث بعض افراد کو مختلف مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دودھ قدرتی طور پر پروٹین، کیلشیم اور مختلف اہم وٹامنز جیسے وٹامن اے، بی ٹو اور بی 12 سے بھرپور ہوتا ہے، اسی لیے اسے متوازن غذا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

سردیوں میں گرم دودھ اور گرمیوں میں ٹھنڈا دودھ پینا ایک عام عادت ہے، مگر بعض افراد کو خصوصاً رات کے وقت دودھ پینے کے بعد بدہضمی، گیس یا پیٹ پھولنے جیسے مسائل پیش آ سکتے ہیں۔

امریکا کی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے معدے کے ماہر ڈاکٹر پلائی ایم مینکم کے مطابق اس کی بڑی وجہ لیکٹوس انٹالرینس نامی کیفیت ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق دودھ میں موجود قدرتی شکر کو لیکٹوس کہا جاتا ہے، جسے ہضم کرنے کے لیے جسم کو لیکٹیس نامی انزائم درکار ہوتا ہے جو چھوٹی آنت میں پیدا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر پلائی کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ، خاص طور پر 30 سال کے بعد، جسم میں لیکٹیس انزائم کی پیداوار کم ہونے لگتی ہے۔ جب یہ انزائم مناسب مقدار میں موجود نہ ہو تو دودھ صحیح طرح ہضم نہیں ہو پاتا اور بڑی آنت میں پہنچ کر بیکٹیریا کی سرگرمی بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں گیس، پیٹ درد اور بدہضمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ سونے سے پہلے دودھ پینا بعض افراد میں انسولین کی سطح بڑھا سکتا ہے کیونکہ دودھ میں موجود کاربوہائیڈریٹس جسم کے قدرتی حیاتیاتی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث بعض لوگوں کی نیند کا معمول بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو دودھ پینے کے بعد بار بار گیس یا بدہضمی کا سامنا ہوتا ہے تو بہتر ہے کہ وہ ڈیری مصنوعات کا استعمال کم کر دے یا پھر اپنی خوراک میں لیکٹوس فری دودھ کو شامل کرنے پر غور کرے۔

مقبول خبریں