ایک ڈچ انجینئر نے اپنی پالتو گولڈ فِش بلَب کے لیے ایک خاص کار تیار کی، جس نے صرف ایک منٹ میں 40 فٹ کا فاصلہ طے کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔
ٹھامس ڈی وولف نے چار پہیوں والی ایک منفرد گاڑی بنائی جس میں ڈرائیور کی نشست کی جگہ پانی سے بھرا ایک ٹینک نصب کیا گیا۔ ٹینک کے اندر لگے سینسر مچھلی کی حرکت کو پڑھ کر گاڑی کی سمت بدلنے کے لیے اسٹیئرنگ کا کام انجام دیتے۔
ٹھامس ڈی وولف نے گینیز ورلڈ ریکارڈز کے اطالوی ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ عام طور پر ان کا کام کافی یکسانیت کا شکار ہوتا ہے، اس لیے انہوں نے سوچا کیوں نہ کچھ ایسا بنایا جائے جو لوگوں کو محظوظ کرے اور ان کے سنجیدہ کام کو بھی کچھ مزاح کا رنگ دے دے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ گولڈ فِش کے ذریعے چلنے والی کار عملی زندگی میں زیادہ کارآمد نہیں لگتی، لیکن اس میں استعمال ہونے والی موشن سینسنگ ٹیکنالوجی معذور افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد لوگوں کو یہ دکھانا تھا کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی سے کیا کچھ ممکن ہے، چاہے وہ بظاہر کوئی سنجیدہ چیز نہ بھی ہو۔ وہ چاہیں گے کہ مستقبل میں اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگوں کی مدد کر سکیں۔
ریکارڈ بنانے کے لیے بلَب نامی گولڈ فِش کو اس خاص گاڑی میں رکھا گیا، جس نے ایک منٹ میں 40 فٹ اور 3.46 انچ کا فاصلہ طے کر کے گولڈ فِش کے ذریعے موشن سینسنگ گاڑی چلانے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔