سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ جیت کا اعلان کرکے جنگ ختم کرے تاکہ بچت ہو ورنہ امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ‘سینٹر اسٹیج’ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو تشویش ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل کیوں نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب دونوں طرفین ڈٹے ہوں تو پھر سفارت کاری کام نہیں آتی، سفارت کاری اس وقت کامیاب ہو گی جب ایک فریق کمزور ہو۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ امریکا کو اس جنگ کا مقصد ہی واضح نہیں تھا، امریکی جنگ کے مختلف مقاصد بیانات کرتے رہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکا کی نہیں بلکہ اسرائیل کی جنگ ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جیت کا اعلان کر کے جنگ ختم کرے، اس صورت میں ہی فیس سیونگ رہ جائے گی۔
امریکا، اسرائیل اور ایران جنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ویتنام جیسی صورت حال اختیار کر سکتی ہے، امریکا ویتنام کی طرح ایران میں پھنس سکتا ہے، خلیجی ریاستیں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکا پر دباؤ ڈالیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اب تک بہت عمدہ سفارت کاری کی ہے، جنگ سے پہلے امریکا نے سفارت کاری صرف دکھاوے کے لیے کی تھی اور اس وقت مجھے سفارت کاری کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔