انگریزوں اور ہندوؤں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ دیکھنے کے بعد قائد اعظم نے ایک علیحدہ ریاست کی تحریک شروع کی۔
قائد اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان علیحدہ قوم ہیں ، جن کا رنگ، نسل اور تہذیب ہندوؤں سے جدا ہے
قرارداد پاکستان کے حوالے سے ڈاکٹر سید حسن رضوی کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کہتے تھے کہ اس وقت ہم انگریزوں کے غلام ہیں، انگریز جانے والے ہیں اور ہم آزاد ہونے والے ہیں۔ اگر ہم نے پاکستان نہ بنایا تو ہم انگریزوں کے بعد ہندوؤں کے غلام ہو جائیں گے۔
ڈاکٹر سید حسن رضوی نے کہا کہ ہندو ہمارے بدترین دشمن ہیں، مسلمان اکثریت علاقے ہیں ان کو ملا کر ایک الگ ملک بنایا جائے، یہ بالکل الگ ملک ہونا چاہئے جس کا نام پاکستان ہو۔
انہوں نے بتایا کہ قائد اعظم کراچی میں سندھ مدرستہ السلام آیا کرتے تھے جہاں وہ لیکچر دیتے، قائد یہاں انگریزی میں نعرے لگواتے تھے جن کا ترجمہ ہمارے پرنسپل کرتے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قائد اعظم کے جانے کے بعد ٹرک آتے تھے جن میں تمام لڑکے سوار ہو جاتے۔ یہ ٹرک پورے کراچی کے چکر لگاتے اور نوجوان قائد اعظم کے ہی نعروں کو دہراتے۔
نعرے یہی ہوتے تھے، پاکستان زندہ باد، قائد اعظم زندہ باد، مسلم لیگ زندہ باد اور بن کے رہے گا پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان۔