ایران جنگ پر امریکا میں سیاسی ہنگامہ، ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت سے مخالفت کا سامنا

سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں


ویب ڈیسک March 15, 2026

ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات واضح ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پارٹی کے کچھ رہنما اور کارکن ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ متعدد قدامت پسند شخصیات اس جنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کر رہی ہیں۔

کئی ریپبلکن حلقوں میں یہ موقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ دراصل اسرائیل کے مفادات کی جنگ ہے اور امریکا کو اس میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہیے۔

امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن نے کھل کر کہا کہ امریکا کو اس تنازع سے جلد باہر نکل جانا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر کے انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رکھنے کی کوشش بھی کی تھی۔

اسی طرح معروف پوڈکاسٹر جو روگن نے بھی اس جنگ کو انتہائی پاگل پن قرار دیا، جبکہ سابق رکن کانگریس ٹیلر گرین نے کہا کہ امریکی عوام نے مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

ادھر امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات دیکھنے میں آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے تحت کانگریس کو جنگ پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی۔

سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے معاملے میں ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ریپبلکن ووٹر جنگ کی حمایت کرتے ہیں، تاہم پارٹی کے اندر بھی واضح نظریاتی تقسیم سامنے آ رہی ہے۔

مقبول خبریں