امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور جنگ اپنے 16ویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
تازہ حملوں میں ایران کے شہر اصفہان کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب ایران نے اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد میزائل داغے جس کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں سائرن بج اٹھے۔ بعض میزائلوں کے ٹکڑے تل ابیب کے قریب گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کے خلاف اپنی کارروائیوں کی 50 ویں لہر شروع کر دی ہے، ایران کے مطابق یہ حملے امارات، بحرین اور کویت میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے کھارگ جزیرے پر حملے کے لیے دبئی کے قریب سے کروز میزائل داغے، جس کے بعد ایران نے خبردار کیا کہ اگر حملے جاری رہے تو اس کے خطرناک نتائج پورے خطے میں محسوس ہوں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 10 ہزار سے زیادہ رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1,400 سے تجاوز کر چکی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن موجودہ شرائط امریکا کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری اتحاد قائم کریں۔
خلیجی ممالک میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ سعودی عرب نے ریاض کے قریب چار ڈرون مار گرائے جبکہ امارات کے الظفیرہ ائیر بیس پر ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا گیا۔
اسی طرح کویت میں احمد الجبیر ایئر بیس کے قریب دو میزائل گرے جس سے تین فوجی زخمی ہوئے۔ قطر نے بھی ایران کی جانب سے داغے گئے چار بیلسٹک میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے 8 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ادھر عراق میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ اردن کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے درجنوں میزائل اور ڈرون تباہ کر دیے۔