چوہدری شوگر مل کیس؛ نیب نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا

نیب انکوائری اسٹیج پر کیس واپس لے تو احتساب عدالت کے پاس جوڈیشل اختیار نہیں، درخواست میں مؤقف


ویب ڈیسک March 16, 2026
فوٹو: فائل

نیب نے چوہدری شوگر مل کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے ذریعے اپیل دائر کی گئی جس میں استدعا کی گئی کہ چوہدری شوگر مل کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا 4 فروری کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ نیب انکوائری اسٹیج پر کیس واپس لے تو احتساب عدالت کے پاس جوڈیشل اختیار نہیں، جب قانون میں عدالتی منظوری کا تقاضا نہ ہو تو اسے عدالتی فیصلے کے ذریعے شامل نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل دفتر کو نوٹس جاری کیے بغیر ہی فیصلہ جاری کر دیا، جب مقدمہ واپس لینے کی منظوری چیئرمین نیب نے دے دی تو لاہور ہائیکورٹ کو قانون کی تشریح کا اختیار ہی نہیں، لاہور ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا جو اس کا دائرہ اختیار ہی نہیں تھا۔

وفاقی آئینی عدالت میں جمع کروائی گئی درخواست میں استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ کا 4 فروری 2026 کا فیصلہ کلعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے کہ چوہدری شوگر ملز کے خلاف 14 نومبر 2018 کو انکوائری شروع کی گئی۔ انکوائری کے دوران فریق نمبر ایک مریم نواز کو 8اگست 2019 کو گرفتار کرکے 48روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔

مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی۔ 31 اکتوبر 2019 کو 10ملین روپے کے دو ضمانتی مچلکوں اور 7 کروڑ روپے اور پاسپورٹ رجسٹرار جوڈیشل کو جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست منظور کی گئی۔

ضمانت دینے کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جہاں درخواست واپس لینے کی بنیاد پر 22اگست 2023 کو خارج کر دی گئی۔

نیب قانون میں مختلف ترامیم کی گئیں جس کے بعد نیب کے انویسٹی گیشن افسر نے فائنڈنگ دی کہ کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کا کیس نہیں بنتا۔ نیب کے انویسٹی گیشن افسر کی رائے پر 3 اپریل 2024 کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سیکشن 31 بی ون کے تحت کارروائی واپس لے لی۔

کارروائی ختم ہونے پر مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی۔ متفرق درخواست میں 7 کروڑ روپے کی واپسی کا تقاضا کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا احتساب عدالت کی منظوری سے ہی کیس بند ہو سکتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ احتساب عدالت لاہور ایک ماہ میں اس پر فیصلہ کرے۔

مقبول خبریں