ڈیری فارمنگ شدید بحران کا شکار، بڑھتی لاگت نے فارمرز کو مشکل میں ڈال دیا

بھینس کے دودھ کی پیداواری لاگت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے، ایسوسی ایشن کی رپورٹ


ویب ڈیسک March 18, 2026
پاکستان پیداوار میں تیسرا بڑا ملک ہونے کے باوجود ایکسپورٹر ممالک کی فہرست میں نہ آ سکا۔ فوٹو: فائل

لاہور:

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان نے کہا ہے کہ بھینس کے دودھ کی پیداواری لاگت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے جس سے ڈیری فارمنگ کا شعبہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ایک بھینس پر یومیہ مجموعی لاگت تقریباً 2406 روپے تک پہنچ چکی ہے جس میں کیٹل خرچ، خوراک اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوسطاً 8 لیٹر دودھ کی یومیہ پیداوار کو مدنظر رکھتے ہوئے فی لیٹر پیداواری لاگت تقریباً 300 روپے 75 پیسے بنتی ہے۔

جانوروں کی خوراک، بھوسہ اور سبز چارے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بجلی، فیول اور پانی کے اخراجات میں بڑھوتری، جبکہ لیبر اور ویٹرنری اخراجات میں اضافے نے ڈیری فارمنگ کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق اس صورتحال کے باوجود فارمرز کو سرکاری سطح پر کم قیمت پر دودھ فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جو کسانوں کے معاشی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ کی قیمت کا تعین حقیقی پیداواری لاگت کے مطابق کیا جائے، غیر حقیقت پسندانہ پرائس کنٹرول پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے اور لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے فوری ریلیف پیکیج دیا جائے۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو ملک میں دودھ کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے جس سے صارفین کے لیے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں