دوحہ / دبئی: ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید کشیدگی کی زد میں آ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور بحرین نے حالیہ گھنٹوں میں متعدد میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ قطر کی وزارت دفاع کے مطابق ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ کویت کی نیشنل گارڈ نے ایک ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھی فضائی دفاعی نظام کو متحرک کیا گیا، جہاں دبئی سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حکام کے مطابق یہ دھماکے دفاعی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئے۔
سعودی عرب نے بھی مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بحرین نے جنگ کے آغاز سے اب تک سینکڑوں میزائل اور ڈرونز کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے خلیجی ممالک کی جانب سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے ہیں، جن میں بڑی تعداد متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ان حملوں کے باعث خطے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے، جبکہ معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کی پیداوار متاثر ہوئی ہے اور سیاحت و فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں یومیہ تیل کی پیداوار 21 ملین بیرل سے کم ہو کر 14 ملین بیرل تک آ گئی ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔