صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوٹاشیم بڑی حد تک صحت کے پیچیدہ مسائل کے خطرات کو کم کر سکتا ہے جن میں فالج کے خطرات میں 20 فی صد اور قلبی مرض میں 24 فی صد تک کمی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو علم نہیں لیکن وہ پوٹاشیم کی کمی میں مبتلا ہیں۔ یہ کمی صرف دل کے دورے اور فالج کے امکانات میں ہی اضافہ نہیں کرتی بلکہ دیگر ایسی علامات کا سبب بھی بنتی ہے جو کم جانے جاتے ہیں۔
ٹِیسائڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جان ینگ نے خراب غذائی عادات (بالخصوص الٹرا پروسیسڈ غذاؤں اور نمک کی زیادہ کھپت) سے متعلق بتایا کہ یہ عوامل پوٹاشیم کی کم مقدار کے بڑے اسباب ہیں۔
پوٹاشیم جسم میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ اعصابی سگنلز کو منظم کرتا ہے، پٹھوں کے سکڑاؤ کو سہارا دیتا ہے، دل کی دھڑکن کو متوازن رکھتا ہے اور سوڈیم (نمک) کے اثرات کو کم کر کے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق معمولی سی کمی بھی پٹھوں میں کھچاؤ، قبض اور سر درد کی علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ جبکہ شدید کمی کی صورت میں یہ ذہنی الجھن، ڈپریشن، بے ترتیب دھڑکن، ہاضمے کے مسائل اور سانس کے مسائل کا سبب بنستی ہے اور اگر علاج نہ کرایا جائے تو صحت کے پیچیدہ مسائل پیش آ سکتے ہیں۔