متحدہ عرب امارات میں ایرانی حملوں کے بعد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ناجائز اضافہ کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق حکومت نے بنیادی اشیاء کی قیمتیں بڑھانے پر تاجروں پر 2 لاکھ درہم سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔
اماراتی حکام نے بتایا کہ قیمتوں میں اضافے کی شکایات موصول ہونے پر 7 ہزار سے زائد ریٹیلرز کا معائنہ کیا گیا، جس میں 567 خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں زیادہ قیمت وصول کرنا شامل ہے۔
وزارت کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض تاجروں نے بلا جواز قیمتیں بڑھا دیں۔ اس دوران تاجروں، سپلائرز اور فروخت کنندگان کو 449 انتباہات جاری کیے گئے جبکہ مجموعی طور پر 2 لاکھ 7 ہزار 250 درہم کے جرمانے عائد کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ وزارت کے مطابق خوردنی تیل، انڈے، چاول، چینی، مرغی، دالیں، روٹی اور گندم کی قیمتیں حکومتی منظوری کے بغیر نہیں بڑھائی جا سکتیں۔
مزید بتایا گیا کہ گزشتہ دو دنوں میں پیاز اور ٹماٹر کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم یہ اضافہ خلیجی حالات کے باعث ہے اور مارکیٹ میں ان اشیاء کی فراہمی کو بہتر بنا دیا گیا ہے۔
وزارت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں اشیائے ضروریہ وافر مقدار میں موجود ہیں اور عوام کو کسی قسم کی پریشانی کی ضرورت نہیں۔