ایران جوہری پروگرام بحال نہیں کر رہا تھا، امریکی انٹیلی جنس چیف کا بڑا انکشاف

یہ بیان ٹرمپ کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں


ویب ڈیسک March 19, 2026

امریکا کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں ہونے والی امریکی کارروائی، جسے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کہا گیا، کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا تھا اور اس کے بعد اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوئی کوشش نہیں دیکھی گئی۔

یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے حکام نے ایران کے ممکنہ جوہری خطرے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگی کارروائی کا جواز پیش کیا تھا۔

دوسری جانب ایران نے ہمیشہ جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ بین الاقوامی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ایران ایسا کرنا بھی چاہے تو اسے اس مقصد کے حصول میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ادھر امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو بھی کافی حد تک نقصان پہنچا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایران اب بھی خطے میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں۔

مزید برآں، امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔

مقبول خبریں