اسلام آباد ہائی کورٹ میں نیب ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے آرڈیننس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے کی، جہاں عدالت نے درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپریل کے پہلے ہفتے تک جواب طلب کرلیا۔
دورانِ سماعت وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کے لیے یہ قانون سازی کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ ریمانڈ میں توسیع کا آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے اور ایک مخصوص شخصیت کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق ریمانڈ کی مدت میں اضافہ آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے اور اس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10-A کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے طے شدہ قانونی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حالیہ صدارتی آرڈیننس کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔